ملفوظات (جلد 1) — Page 100
ملفوظات حضرت مسیح موعود پھر اس کے لئے یہ کہنا سزاوار ہوتا ہے جلد اول من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی تا کس نه گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری بایں ہمہ تصرفات الہیہ کا قائل ان کو بھی ہونا پڑتا ہے خواہ وجودی ہوں یا شہودی ہوں۔ ان کے بعض بزرگ اور اہل کمال بایزید بسطامی سے لے کر شبلی ، ذوالنون اور محی الدین ابن عربی تک کے کلمات علی العموم ایسے ہیں کہ بعض ظاہر طور پر اور بعض مخفی طور پر اسی طرف گئے ہیں۔ میں یہ بات کھول کر کہنی چاہتا ہوں کہ ہمارا یہ حق نہیں کہ ہم ان کو استہزا کی نظر سے دیکھیں ۔ نہیں نہیں ۔ وہ اہل عقل تھے۔ بات یوں ہے کہ معرفت کا یہ ایک باریک اور عمیق راز تھا۔ اس کا رشتہ ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ یہی بات تھی اور کچھ نہیں۔ خدائے تعالیٰ کے اعلیٰ تصرفات پر انسان ایسا معلوم ہوتا ہے جیسا کہ بالک الذات۔ انہوں نے انسان کو ایسا دیکھا اور ان کے منہ سے ایسی باتیں نکلیں اور ذہن ادھر منتقل ہو گیا۔ پس یہ امر بحضور دل یا درکھو کہ با وصفیکہ انسان صفائی باطن سے ایسے درجہ پر پہنچتا ہے ( جیسا کہ ہمارے نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم اس مرتبہ اعلیٰ پر پہنچے ) کہ جہاں اسے اقتداری طاقت ملتی ہے لیکن خالق اور مخلوق میں ایک فرق ہے اور نمایاں فرق ہے اس کو کبھی دل سے دور کرنا نہ چاہیے۔ انسان ہستی کے عوارض سے آزاد نہیں۔ نہ یہاں نہ وہاں ۔ کھاتا پیتا ہے۔ معاصی ہوتے ہیں کبائر بھی اور صغائر بھی۔ اور اسی طرح پر اگلے جہان میں بھی بعض جہنم میں ہوں گے اور بعض جنت الخلد میں ۔ غرض یہ ہے کہ انسان کبھی بھی جامہ عبودیت سے باہر نہیں ہو سکتا تو پھر میں نہیں سمجھ سکتا کہ وہ کون سا حجاب ہے کہ جب وہ اتار کر ربوبیت کا جامہ پہن لیتا ہے ۔ بڑے بڑے زاہدوں اور مجاہدوں کے شامل حال عبودیت ہی رہی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبودیت قرآن کریم کو پڑھ کر دیکھاو۔ اوتو اور ہمارے یت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر دنیا میں کسی کامل انسان کا نمونہ موجود نہیں اور نہ آئندہ قیامت تک ہو سکتا ہے پھر دیکھو کہ اقتداری معجزات کے