ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 93

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۳ جلد اول تقوی کے مدارج اور مراتب بہت ہیں لیکن اگر طالب صادق ہو کر ابتدائی مراتب اور مراحل کو استقلال اور خلوص سے طے کرے تو وہ اس راستی اور طلب صدق کی وجہ سے اعلیٰ مدارج کو پالیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ( المائدة : ۲۸) گو یا اللہ تعالیٰ متقیوں کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے ۔ یہ گویا اس کا وعدہ ہے اور اس کے وعدوں میں تخلف نہیں ہوتا جیسا کہ فرمایا ہے إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ (الرعد : (۳۲) پس جس حال میں تقویٰ کی شرط قبولیت دعا کے لئے ایک غیر منفک شرط ہے تو ایک انسان غافل اور بے راہ ہو کر اگر قبولیت دعا چاہے تو کیا وہ احمق اور نادان نہیں ہے۔ لہذا ہماری جماعت کو لازم ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ہر ایک ان میں سے تقویٰ کی راہوں پر قدم مارے تا کہ قبولیت دعا کا سرور اور حظ حاصل کرے اور زیادتی ایمان کا حصہ لے۔ نفس انسانی کی تین حالتیں قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ فس انسانی کی تین حالتیں ہیں ۔ ایک آماری، دوسرى لوامة، تيسرى مطمئنة نفس اماره کی حالت میں انسان شیطان کے پنجہ میں گویا گرفتار ہوتا ہے اور اس کی طرف بہت جھکتا ہے لیکن نفس لوامہ کی حالت میں وہ اپنی خطا کاریوں پر نادم ہوتا اور شرمسار ہو کر خدا کی طرف جھکتا ہے مگر اس حالت میں بھی ایک جنگ رہتی ہے۔ کبھی شیطان کی طرف جھکتا ہے اور کبھی رحمان کی طرف ۔ مگر نفس مطمئنہ کی حالت میں وہ عباد الرحمن کے زمرہ میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ گو یا ارتفاعی نقطہ ہے جس کے بالمقابل نیچے کی طرف اتارہ ہے۔ اس میزان کے بیچ میں تو امہ ہے جو ترازو کی زبان کی طرح ہے۔ انحضاضی نقطہ کی طرف اگر زیادہ جھکتا ہے تو حیوانات سے بھی بدتر اور ارذل ہو جاتا ہے اور ارتفاعی نقطہ کی طرف جس قدر رجوع کرتا ہے اسی قدر اللہ تعالیٰ کی طرف قریب ہوتا جاتا ہے اور سفلی اور ارضی حالتوں سے نکل کر علوی اور سماوی فیضان سے حصہ لیتا ہے۔ دنیا میں کوئی چیز منفعت سے خالی نہیں یہ بات بھی خوب یاد رکھنی چاہے کہ ہربات میں منافع ہوتا ہے۔ دنیا میں دیکھ لو اعلیٰ درجہ کی