ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 88 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 88

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۸ جلد دہم بعض ایسے مقامات بھی ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت نہیں پہنچی مگر اب تو ڈاک، تار، ریل سے زمین کے اس سرے سے اُس سرے تک خبر پہنچ سکتی ہے ۔ یہ حجاز ریلوے جو بن رہی ہے یہ بھی اسی پیشگوئی کے ماتحت ہے۔ عرب کے کئی لوگ کہنے لگ گئے ہیں کہ إِذَا الْعِشَارُ عُطِلَتُ (التکویر : ۵) کا زمانہ آگیا۔ عشار ( گابھن اونٹنیاں) کا لفظ خود ظاہر کرتا ہے کہ یہ سب قیامت سے پہلے ہوگا کیونکہ اس دن کی نسبت تو لکھا ہے کہ ہر حمل والی اپنا حمل گرادے گی اور پھر اس دن تو ہر چیز معطل ہو جائے گی ، اونٹنیوں کی خصوصیت کیا ہے؟ مطلب یہ تھا کہ اب تجارت کا دارو مدار اونٹنیوں پر ہے پھر ریل پر ہوگا ۔ اور چونکہ حدیث میں یہی زمانہ مسیح موعود کا لکھا ہے اس لئے اب عرب والوں کو مسیح موعود کی تلاش کرنی چاہیے۔ دیکھو ! اب تو اُن کے گھر میں ریل بن رہی ہے اور خود ہمارے دشمن اس میں سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بھی ایک نشان ہے کہ ہمارے دشمنوں کو خدا نے ہمارے کام میں لگا دیا ہے۔ چندہ تو دے رہے ہیں وہ اور صداقت ہماری ثابت ہوگی ۔ افسوس کہ یہ لوگ ہمارے بغض کی وجہ سے آنحضرت کی پیشگوئیوں کی نانات کی تکذیب تکذیب بھی کر دیتے ہیں مگر کس کس نشان کی یہ تکذیب کریں گے۔ خدا نے ہمارے لیے طاعون بھیجا۔ زلزلہ بھی آیا۔ یا جوج ماجوج دجال کا خروج ہو چکا۔ کسوف خسوف ماہِ رمضان میں غیر معمولی طور سے ہو چکا ۔ کہتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ نادان یہ نہیں سمجھتے کہ جب واقع ہو گئی تو اب راویوں پر جرح فضول ہے۔ جب کوئی امر واقع ہو جائے تو بڑا ہی بیوقوف ہے وہ شخص جو پھر بھی کہے فلاں راوی ایسا ہے اور فلاں ایسا۔ ایک بزرگ نے لکھا ہے کہ بعض حدیثیں صحیح، عجب نہیں اگر موضوع ثابت ہوں اور کئی ایسی حدیثیں جنہیں موضوع کہتے ہیں صحیح واقعات نے صحیح ثابت کیں۔ ان لوگوں میں ذرا بھی ایمان ہو تو مان لیں ۔ دیکھو ! حدیث و قرآن و حالات موجودہ کا آپس میں کیا تطابق ہوا ہے یہ ہمیں مفتری کہتے ہے۔ اچھا الہام بنانے پر تو ہمارا اختیار ہے کیا آسمان پر بھی ہمار اختیار تھا کہ ہم ماہ رمضان میں خلاف معمول کسوف خسوف کراتے؟ کیا طاعون پر ہمارا اختیار تھا کہ اُسے لے آتے ؟ کیا ریل ہماری کوشش سے بن رہی ہے؟