ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 84 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 84

ملفوظات حضرت مسیح موعود لد جلد دہم خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ قرآن شریف نے ایسا خدا پیش نہیں کیا جو ایسی ناقص صفات والا ہو اسلام کا خدا کہ نہ وہ روحوں کا مالک ہے نہ ذرات کا مالک ہے نہ اُن کو نجات دے سکتا ہے نہ کسی کی توبہ قبول کر سکتا ہے بلکہ ہم قرآن شریف کے رواس خدا کے بندے ہیں جو ہمارا خالق ہے۔ ہمارا مالک ہے۔ ہمارا رازق ہے۔ رحمان ہے۔ رحیم ہے ۔ مالک یوم الدین ہے۔ مومنوں کے واسطے یہ شکر کا مقام ہے کہ اس نے ہم کو ایسی کتاب عطا کی جو اس کے صحیح صفات کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے۔ افسوس ہے ان پر جنہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی ۔ ان مسلمانوں پر بھی افسوس ہے جن کے سامنے عمدہ کھانا اور ٹھنڈا پانی رکھا گیا ہے لیکن وہ پیٹھ دے کر بیٹھ گئے اور اس کھانے کو نہیں کھاتے۔ زمانے کے مصائب سے بچانے کے واسطے ان کے لیے ایک وسیع محل تیار کیا گیا جس میں ہزاروں آدمی داخل ہو سکتے ہیں مگر افسوس اُن پر کہ وہ خود بھی داخل نہ ہوئے اور دوسروں کو بھی داخل ہونے سے روک دیا۔ کیا پہلے سے نہیں کہا گیا تھا کہ آخری زمانہ میں ایک قرناء آسمان یہ نفخ صور کا وقت ہے سے پھونکی جائے گی۔ کیا وی خدا کی آواز نہیں۔ انبیاء جو آتے ہیں وہ قرناء کا حکم رکھتے ہیں۔ نفخ صور سے یہی مراد تھی کہ اس وقت ایک مامور کو بھیجا جائے گا۔ وہ سناوے گا کہ اب تمہار اوقت آگیا ہے کون کسی کو درست کر سکتا ہے جب ہے جب تک کہ خدا درست نه کرے۔ اللہ تعالٰی اپنے نبی کو ایک قوت جاذ بہ عطا کرتا ہے کہ لوگوں کے دل اس کی طرف مائل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ خدا کے کام کبھی حبط نہیں جاتے۔ ایک قدرتی کشش کام کر دکھائے گی اب وہ وقت آگیا ہے جس کی خبر تمام انبیاء ابتدا سے دیتے چلے آئے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے فیصلہ کا وقت قریب ہے اس سے ڈرو اور توبہ کروں کے لے بدر جلدے نمبر ۲ مورخہ ۱۶ جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۴ تا ۹ و الحکم جلد ۱۲ نمبر ۵ مورخه ۱۸ جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۳ تا ۶