ملفوظات (جلد 10) — Page 80
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۰ جلد دہم خدا کے فعل پر اپنا فخر جاننا اور خوش ہونا جاہل کا کام ہے۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ آپ بعض دفعہ رات کو اس قدر عبادت میں کھڑے ہوتے تھے کہ پاؤں پر ورم ہو جاتا تھا۔ ساتھی نے عرض کی کہ آپ تو گناہوں سے پاک ہیں اس قدر محنت پھر کس لئے ۔ فرمایا۔ أَفَلا أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا کیا میں شکر گزار نہ بنوں ۔ انسان کو چاہیے کہ مایوس نہ ہووے۔ گناہوں کا حملہ انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے سخت ہوتا ہے اور اصلاح مشکل نظر آتی ہے مگر گھبرانا نہیں چاہیے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو بڑے گناہ گار ہیں ۔ نفس ہم پر غالب ہے۔ ہم کیوں کر نیکوکار ہو سکتے ہیں؟ ان کو سوچنا چاہیے کہ مومن کبھی نا اُمید نہیں ہوتا۔ خدا کی رحمت سے نا اُمید ہونے والا شیطان ہے اور کوئی نہیں ۔ مومن کو کبھی بزدل نہیں ہونا چاہیے گو کیسا ہی گناہ سے مغلوب ہو۔ پھر بھی خدا تعالیٰ نے انسان میں ایک ایسی قدرت رکھی ہے کہ وہ بہر حال گناہ پر غالب آہی جاتا ہے۔ انسان میں گناہ سوز قوت خدا نے رکھی ہے۔ جو اس کی فطرت میں موجود ہے۔ دیکھو! پانی کو کیسا ہی گرم کیا جائے ایسا سخت گرم کیا جائے کہ جس چیز پر ایک لطیف مثال ڈالیں وہ چیز بھی جل جائے پھر بھی اگر اس کو آگ پرڈالو تو وہ آگ کو بجھا دے گا کیونکہ اس میں خدا تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھ دی ہے کہ وہ آگ کو بجھا دیوے۔ ایسا ہی انسان کیسا ہی گناہ میں ملوث ہو اور کیسا ہی بدکاری میں غرق ہو پھر بھی اس میں یہ طاقت موجود ہے کہ وہ معاصی کی آگ کو بجھا سکتا ہے۔ اگر یہ بات انسان میں نہ ہوتی تو پھر وہ مکلف نہ ہوتا بلکہ پیغمبر رسول کا آنا بھی پھر غیر ضروری ہوتا مگر دراصل فطرت انسانی پاک ہے اور جیسا کہ جسم کے لیے بھوک اور پیاس ہے تو کھانا اور پینا بھی آخر میسر آجاتا ہے انسان کے واسطے دم لینے کے واسطے ہوا کی ضرورت ہے تو وہ موجود ہے اور جسم کے لیے جس قدر سامان ضروری ہیں جب کہ وہ سب مہیا کر دیئے جاتے ہیں تو پھر روح کے واسطے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ کیوں مہیا نہ ہوں گی ؟ خدا تعالیٰ رحیم ، غفور اور ستار ہے اس نے روحانی بچاؤ کے واسطے بھی تمام سامان مہیا کر دیئے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ