ملفوظات (جلد 10) — Page 78
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۸ جلد دہم خدا تعالیٰ کی طرف اُٹھایا جاتا ہے اور ایک خاص نور سے منور کیا جاتا ہے۔ اس رفع میں وہ شیطان کی زد سے ایسا بلند ہو جاتا ہے کہ پھر شیطان کا ہاتھ اس تک نہیں پہنچ سکتا ۔ ہر ایک چیز کا خدا تعالیٰ نے اس دنیا میں بھی ایک نمونہ رکھا ہے اور یہ اسی امر کی طرف اشارہ ہے کہ شیطان جب آسمان کی طرف چڑھنے لگتا ہے تو ایک شہاب ثاقب اس کے پیچھے پڑتا ہے جو اس کو نیچے گرا دیتا ہے۔ ثاقب روشن ستارے کو کہتے ہیں اس چیز کو بھی ثاقب کہتے ہیں جو سوراخ کر دیتی ہے اور اس چیز کو بھی ثاقب کہتے ہیں جو بہت اونچی چلی جاتی ہو۔ اس میں حالت انسانی کے واسطے ایک مثال بیان کی گئی ہے جو اپنے اندر ایک نہ صرف ظاہری بلکہ ایک مخفی حقیقت بھی رکھتی ہے جب ایک انسان کو خدا تعالیٰ پر پکا ایمان حاصل ہو جاتا ہے تو اس کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع ہو جاتا ہے اور اس کو ایک خاص قوت اور طاقت اور روشنی عطا کی جاتی ہے۔ جس کے ذریعہ سے وہ شیطان کو نیچے گرا دیتا ہے۔ ثاقب مارنے والے کو بھی کہتے ہیں۔ ہر ایک مومن کے واسطے لازم ہے کہ وہ اپنے شیطان کو مارنے کی کوشش کرے اور اسے ہلاک کر ڈالے جو لوگ روحانیت کی سائنس سے ناواقف ہیں وہ ایسی باتوں پر ہنسی کرتے ہیں مگر دراصل وہ خود ہنسی کے لائق ہیں ۔ ایک قانون قدرت ظاہری ہے ایسا ہی ایک قانونِ قدرت باطنی بھی ہے ظاہری قائم اہری قانون باطنی کے واسطے بطور ایک نشان کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی اپنی وحی میں فرمایا ہے کہ انتَ مِنِى بِمَنْزِلَةِ الثَّاقِبِ یعنی تو مجھ سے بمنزلہ ثاقب ہے۔ اس کے یہ معنے ہیں کہ میں نے تجھے شیطان کے مارنے کے واسطے پیدا کیا ہے۔ تیرے ہاتھ سے شیطان ہلاک ہو جائے گا۔ شیطان بلند نہیں جا سکتا ۔ اگر مومن بلندی پر چڑھ جائے تو شیطان پھر اس پر غالب نہیں آسکتا۔ مومن کو چاہیے کہ وہ خدا تعالیٰ سے دعا کرے کہ اس کو ایک ایسی طاقت مل جائے جس سے وہ شیطان کو ہلاک کر سکے ۔ جتنے برے خیالات پیدا ہوتے ہیں ان سب کا دور کرنا شیطان کو ہلاک کرنے پر منحصر ہے۔ مومن کو چاہیے کہ استقلال سے کام لے، ہمت نہ ہارے، شیطان کو مارنے کے پیچھے پڑا رہے۔ آخر وہ ایک دن کامیاب ہو جائے گا ۔ خدا تعالیٰ رحیم و کریم ہے جو لوگ اس کی لے نقل مطابق اصل ہے روحانی خزائن میں یہ الہام یوں درج ہے۔ آنت مِنِّي بِمَنْزِلَةِ النَّجْمِ الثَّاقِبِ (مرتب) چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۳۶)