ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 75

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۵ جلد دہم آتی ہے تو وہ شکوہ شروع کرتے ہیں گو یا خدا تعالیٰ کے ساتھ قطع تعلق کرتے ہیں۔ بعض عورتیں کوستی ہیں اور گالیاں دیتی ہیں۔ بعض مرد بھی ایمانی حالت میں ناقص ہوتے ہیں۔ یہ ایک ضروری نصیحت ہے اور اس کو یا د رکھو کہ اگر کوئی شخص مصیبت زدہ ہو تو اُسے ڈرنا چاہیے کہ ایسا نہ ہو کہ اس سے بڑھ کر اس پر کوئی مصیبت گرے۔ کیونکہ دنیا دار المصائب ہے اور اس میں غافل ہو کر بیٹھنا اچھا نہیں اکثر مصائب متنبہ کرنے کے واسطے آتے ہیں۔ ابتدا میں اس کی صورت خفیف ہوتی ہے۔ انسان اس کو مصیبت نہیں سمجھتا پھر وہ بیتاب کرنے والی مصیبت ہو جاتی ہے۔ دیکھو! اگر کسی کو آہستگی سے دبایا جائے تو اس کے بدن کو آرام پہنچتا ہے۔ وہی ہاتھ زور سے مارا جائے تو موجب دکھ ہو جاتا ہے۔ ایک مصیبت سخت ہوتی ہے جو وبالِ جان بن جاتی ہے۔ قرآن شریف نے ہر دو مصائب کا ذکر کر دیا ہے۔ مصائب رفع درجات کے واسطے ہو ۔ خدمت دین کو ایک فضل الہی جانو حضرت ابراہیم اس بات پر روتے دھوتے نہ رہے کہ خدا نے مجھ سے بیٹا مانگا ہے بلکہ انہوں نے اس بات پر خدا تعالیٰ کا شکر کیا کہ ایک خدمت کا ا موقع ملا ہے۔ لڑکے کی ماں نے بھی رضا مندی دی اور لڑکا بھی اس بات پر راضی ہوا۔ ذکر ہے کہ ایک دفعہ ایک مسجد کا مینار گر گیا تو شاہ وقت نے سجدہ کیا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس خدمت میں سے حصہ لینے کا موقع دیا ہے جو بزرگ بادشاہوں نے اس مسجد کے بنا کرنے میں حاصل کی تھی ۔ وقت تو بہر حال گذر جاتا ہے۔ گوشت پلاؤ کھانے والے بھی آخر مر جاتے ہیں لیکن صبر کا اجر جو شخص تلخیاں دیکھ کر صبر کرتا ہے اس کو بالآخر اجر ملتا ہے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کی اس بات پر شہادت ہے کہ صبر کا اجر ضرور ہے۔ جو لوگ خدا کی خاطر صبر نہیں کرتے ان کو بھی صبر کرنا ہی پڑتا ہے مگر پھر نہ وہ ثواب ہے اور نہ اجر۔ کسی عزیز کے مرنے کے وقت عورتیں سیا پا کرتی ہیں۔ بعض نادان مردسر پر راکھ ڈالتے ہیں۔ تھوڑے عرصہ کے بعد خود ہی صبر کر کے بیٹھ جاتے ہیں اور وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں ۔ ایک عورت کا