ملفوظات (جلد 10) — Page 67
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۷ جلد دہم حضرت ابو بکر صدیق کو ہی دیکھو کہ جب وہ شام کے ملک سے واپس آ رہے تھے تو راستہ میں ایک شخص ان کو ملا ۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ کوئی تازہ خبر سناؤ۔ اس شخص نے جواب دیا کہ اور تو کوئی تازہ خبر نہیں البتہ تمہارے دوست محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے پیغمبری کا دعویٰ کیا ہے۔ اس پر ابو بکر صدیق رض نے اس کو جواب دیا کہ اگر اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو وہ سچا ہے ۔ وہ جھوٹا کبھی نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق سیدھے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر چلے گئے اور آنحضرت کو مخاطب کر کے کہنے لگے کہ آپ گواہ رہیں کہ سب سے پہلے آپ پر ایمان لانے والا میں ہوں ۔ دیکھو! انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معجزہ نہیں مانگا تھا۔ صرف پہلے تعارف کی برکت سے وہ ایمان لے آئے تھے۔ یا درکھو! معجزات وہ طلب کیا کرتے ہیں جن کو تعارف نہیں ہوتا ۔ جو لنگوٹیا یا ر ہوتا ہے اس کے لیے تو سابقہ حالات ہی معجزہ ہوتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر کو بڑی بڑی تکالیف کا سامنا ہوا۔ طرح طرح کے مصائب اور سخت درجہ کے دکھ اُٹھانے پڑے۔ لیکن دیکھو! کہ اگر سب سے زیادہ انہیں کو دکھ دیا گیا تھا اور وہی سب سے بڑھ کر ستائے گئے تھے تو سب سے پہلے تخت نبوت پر وہی بٹھائے گئے تھے۔ کہاں وہ تجارت کہ تمام دن دھکے کھاتے پھرتے تھے اور کہاں یہ درجہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے اول خلیفہ انہیں کو مقرر کیا گیا۔ انسان کو چاہیے کہ خدا تعالیٰ پر باطنی کرنے سے بچے کیونکہ اس کا انجام خدا تعالیٰ پر باطنی نہ کرو آخر میں تباہی ہوا کرتا ہے آخر میں تباہی ہوا کرتا ہے۔ جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے وَ ذَلِكُم ظَنَّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمُ ارْداكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخَسِرِينَ ( حم السجدۃ : ۲۴) اس لئے سمجھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ پر بدظنی کرنا اصل میں بے ایمانی کا بیج بونا ہے جس کا نتیجہ آخر کار ہلاکت ہوا کرتا ہے۔ جب کبھی خدا تعالیٰ کسی کو اپنا رسول بنا کر بھیجتا ہے اور جو اس کی مخالفت کرتا ہے وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ یا درکھو! جب ایک مامور من اللہ آتا ہے تو مامور کے مخالف آخر پکڑے جاتے ہیں۔ اس سے منہ پھیرنا اصل میں خدا سے منہ سے پھیرنا ہے دیکھو گورنمنٹ کا ادنی چپڑاسی ہوتا ہے۔ پانچ روپیہ ماہوار اس کی تنخواہ ہوتی ہے لیکن جب