ملفوظات (جلد 10) — Page 64
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۴ جلد دہم خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ صرف زبان سے تو بہ تو بہ کرتے پھرو بلکہ فرمایا کہ خدا کی طرف رجوع کرو جیسا کہ حق ہے رجوع کرنے کا کیونکہ جب متناقض جہات میں سے ایک کو چھوڑ کر انسان دوسری طرف آجاتا ہے تو پھر پہلی جگہ دُور ہو جاتی ہے اور جس کی طرف جاتا ہے وہ نزدیک ہوتی جاتی ہے ۔ یہی مطلب تو بہ کا ہے کہ جب انسان خدا کی طرف رجوع کر لیتا ہے اور دن بدن اسی کی طرف چلتا ہے تو آخر یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ شیطان سے دور ہو جاتا ہے اور خدا کے نزدیک ہو جاتا ہے اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جو جس کے نزدیک ہوتا ہے اسی کی بات سنتا ہے اس لیے ایسے انسان پر جو عملی طور پر شیطان سے دور اور خدا سے نزدیک ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ کے فیوض اور برکات کا نزول ہوتا ہے اور سفلی آلائشوں کا گند اس۔ سے دھویا جاتا ہے جیسے آگے فرما یا عسى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيَأْتِكُمُ (التحريم : ٩) کیونکہ تو بہ میں ایک خاصیت ہے کہ گذشتہ گناہ اس سے بخشے جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ ( البقرة : ٢٢٣) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک تو تو اب ہوتے ہیں اور ایک متطہر تو اب اور مُتَطَهِّر ہوتے ہیں۔ تواب ان کو کہا جاتا ہے جو بھی خدا کی طرف رجوع کر لیتے ہیں اور متطہر وہ ہوتے ہیں کہ وہ مجاہدات اور ریاضات کرتے رہتے ہیں اور اُن کے دل میں ایک کپٹ سی لگی رہتی ہے کہ کسی طرح سے اُن آلائشوں سے پاک ہو جاویں اور نفس امارہ کے جذبات پر ہر طرح سے غالب آکرز کی النفس بن جاویں۔ یا درکھنا چاہیے کہ قرآن مجید میں نفس کی تین قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ نفس امارہ ۔ نفس کی اقسام نفس لوامہ نفس مطمئنہ ۔ نفس امارہ اس کو کہتے ہیں کہ سوائے بدی کے اور کچھ چاہتا ہی نہیں جیسے فرمایا اللہ نے اِنَّ النَّفْسَ لامارة بالسوء ( یوسف : ۵۴) یعنی نفس اتارہ میں یہ خاصیت ہے کہ وہ انسان کو بدی کی طرف جھکاتا ہے اور ناپسندیدہ اور بدرا ہوں پر چلانا چاہتا ہے جتنے بدکار چور ڈاکو دنیا میں پائے جاتے ہیں وہ سب اسی نفس کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ ایسا شخص جو نفس امارہ کے ماتحت ہو ہر ایک طرح کے بدکام