ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 59

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۹ جلد دہم اور پھر حدیثوں میں لکھا ہے کہ جہاں تک خدا کے مسیح کی نظر پہنچ سکے گی کا فرتباہ اور ہلاک ہوتے جائیں گے یہ بھی بالکل سچی بات ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس پر اس کی نظر پڑے گی وہی تباہ ہوتا جائے گا بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ جو اس کی نظر میں نشانہ بنیں گے وہ تباہ اور ہلاک ہوتے جائیں گے لیکن اب تو تمام دنیا نشانہ بن رہی ہے۔ خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ( الثريت : (۵۷) یعنی تمام جن اور انسان صرف اسی واسطے پیدا کئے گئے تھے کہ وہ خدا کی معرفت میں ترقی کرتے اور اللہ اور اس کے رسول کے حکموں پر چلتے ۔ مگر اب تم خود سوچ لو کہ کتنے لوگ ہیں جو دینداری سے دنیوی مشاغل میں انہماک زندگی بر کر رہے ہیںاور دین کو نیا پر مقدم کرہے ہیں۔ تم خود کسی بڑے شہر مثلاً کلکتہ، دہلی ، پشاور اور لاہور، امرتسر وغیرہ کے چوک میں کھڑے ہو کر دیکھ لو ہزاروں لاکھوں لوگ ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر دوڑتے پھرتے ہیں مگر اُن کی یہ سب دوڑ دھوپ محض دنیا کے لئے ہوتی ہے ۔ آپ کو بہت تھوڑے ایسے ملیں گے جو دین کے کام میں ایسی سرگرمی سے مشغول ہوں۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دنیا کی خاطر بڑے بڑے مصائب کا مقابلہ کرتے ہیں مگر دین میں نہایت بودے پائے جاتے ہیں۔ ایک ذرا سے ابتلا پر جھوٹ جیسی نجاست کو کھانے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور اپنی نفسانی خواہشوں کو پورا کرنے کے لئے کن کن حیلوں سے کام لیتے ہیں کہ گویا خدا ہی نہیں ۔ انسان جتنی ٹکریں اپنی بیوی کو خوش کرنے اور اس کی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لئے مارتا ہے اگر خدا کی راہ میں اتنی کوشش کرے تو کیا وہ خوش نہ ہوگا ؟ ہوگا اور ضرور ہوگا مگر کوئی کوشش کر کے بھی دیکھے۔ اگر ایک کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تو محض ایک بچہ کی خاطر وہ کیسی کیسی سختیاں جھیلتا ہے اور کس طرح کے وسائل اور تدابیر سے اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کہاں کا کہاں خوار ہوتا پھرتا ہے گو یا خدا اس کے نزدیک ہے ہی نہیں ۔ غرض یا درکھنا چاہیے کہ انسان جب اپنی زندگی کی اصل غرض سے غافل ہو جاتا ہے تو پھر وہ