ملفوظات (جلد 10) — Page 50
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۰ جلد دہم ( عبدالحکیم ) ہے جو بیس برس تک میر امر ید رہا ہے اور ہر طرح سے میری تائید کرتا سے میری تائید کرتا رہا ہے اور میری سچائی پر اپنی خوابیں سناتا رہا ہے۔ اب مرتد ہو کر اس نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام اس نے میری طرف منسوب کر کے کانا دجال رکھا ہے لیکن اصلی بات یہ ہے کہ اس کو اس بات کی خبر ہی نہیں ہے کہ اسلام کا کیا حال ہو رہا ہے؟ جن لوگوں کے دھوکوں اور فریبوں سے آئے دن لوگ اسلام سے مرتد ہو رہے ہیں وہ تو اس کے نزدیک دجال نہیں ہیں اور ان کا ذکر تک بھی اپنی کتابوں میں نہیں کرتا ہے اور جو اسلام کا زندہ چہرہ دکھا رہا ہے اور تازہ بتازہ نشانوں سے اس کی تائید کر رہا ہے اور ہر طرح سے اسلام کی مدد کر رہا ہے اور دشمنان اسلام کا دندان شکن جواب دے رہا ہے وہ اس کی نظر میں دجال ہے۔ سو سمجھنا چاہیے کہ صفائی ذہن بھی تو آخر تقویٰ صفائی ذہن کے لئے تقویٰ ضروری ہے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ اس واسطے خدا تعالی فرماتا ہے ۔ الم ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرۃ: ۲، ۳) یعنی یہ کتاب انہیں کو ہدایت نصیب کرتی ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جن میں تقویٰ نہیں وہ تو اندھے ہیں۔ اگر کوئی پاک نظر سے اور خدا تعالیٰ کا خوف کر کے اس کو دیکھتا ہے تب تو اس کو سب کچھ اس میں سے نظر آجاتا ہے اور اگر ضد اور تعصب کی پٹی آنکھوں پر باندھی ہوئی ہے تو وہ اس میں سے کچھ بھی نہیں دیکھ سکتا۔ یا د رکھنا چاہیے کہ دجال شیطان کا مغلوب ہونا مسیح موعود کے ہاتھوں مقدر ہے اصل میں شیطان کے مظہر کو کہتے ہیں جس کے معنے ہیں راہ ہدایت سے گمراہ کرنے والا ۔ لیکن آخری زمانہ کی نسبت پہلی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس وقت شیطان کے ساتھ بہت جنگ ہوں گے لیکن آخر کار شیطان مغلوب دو لہ بدر سے ۔ اور جیسے اندھا سورج سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتا ۔ اسی طرح جو متقی نہیں وہ قرآن کے نور سے کچھ روشنی نہ پاسکے گا۔ جو تعصب سے نظر کرتا ہے۔ بات بات میں بدظنی سے کام لیتا ہے وہ بشر تو کجا اگر فرشتہ بھی آئے تو کبھی ( بدر جلدے نمبر امورخه ۹ جنوری ۱۹۰۸ صفحه (۹) ماننے کا نہیں ۔“ 66