ملفوظات (جلد 10) — Page 39
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹ جلد دہم اور رنگ کا ہے۔ اس کی حقیقت خدا کے سپر د کرنی چاہیے۔ آریہ وغیرہ جو اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں خدا تعالیٰ کو غضب ناک کہا گیا ہے یہ ان کی صریح غلطی ہے اُن کو چاہیے تھا کہ قرآن مجید کی دوسری جگہوں پر بھی نظر کرتے وہاں تو صاف طور پر لکھا ہے۔ عَذَابی ابى أصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ ۚ وَ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ( الاعراف : خدا ۱۵۷) کی رحمت تو کل چیزوں کے شامل حال ہے۔ مگر ان کو دقت ہے تو یہ ہے کہ خدا کی رحمت کے تو وہ قائل ہی نہیں ۔ اُن کے مذہبی اصول کے بموجب اگر کوئی شخص بصد مشکل مکتی حاصل کر بھی لے تو آخر پھر وہاں سے بھی نکلنا ہی پڑے گا۔ غرض خوب یا درکھو کہ خدا تعالیٰ کے کلام پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا ۔ جیسے خدا ہر ایک عیب سے پاک ہے ویسے ہی اس کا کلام بھی ہر ایک قسم کی غلطی سے پاک ہوتا ہے۔ اور یہ جو فرمایا ہے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ تو اس سے یہ مراد یہود کی شوخیاں ہے کہ یہود یک تو تھی جوتوریت کو مانی تھی انہوں نے حضرت عیسی علیہ اسلام کی بہت تکذیب کی تھی اور بڑی شوخی کے ساتھ اُن سے پیش آئے تھے۔ یہاں تک کہ کئی باران کے قتل کا ارادہ بھی انہوں نے کیا تھا اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب کوئی شخص کسی فن کو کمال تک پہنچادیتا ہے تو پھر وہ بڑا نامی گرامی اور مشہور ہو جاتا ہے اور جب کبھی اس فن کا ذکر شروع ہوتا ہے تو پھر اسی کا نام ہی لیا جاتا ہے۔ مثلاً دنیا میں ہزاروں پہلوان ہوئے ہیں اور اس وقت بھی موجود ہیں ۔ مگر رستم کا ذکر خاص طور پر کیا جاتا ہے بلکہ اگر کسی کو پہلوانی کا خطاب بھی دیا جاتا ہے تو اُسے بھی رستم ہند وغیرہ کر کے پکارا جاتا ہے۔ یہی حال یہود کا ہے۔ کوئی نبی نہیں گذرا جس سے انہوں نے شوخی نہیں کی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تو انہوں نے یہاں تک مخالفت کی کہ صلیب پر چڑھانے سے بھی دریغ نہیں کیا اور ان کے مقابلہ پر ہر ایک شرارت سے کام لیا۔ لے بدر سے ۔ ” خدا کا غضب خدا کی رحمت اس کے سمع بصر کی طرح الگ ہے۔ ایمان لانا چاہیے اور حقیقت کو خدا کے ( بدر جلد نمبر ۱ مورخه ۹ جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۷ ) سپرد کرنا مومن کی شان ہے ۔“ 66