ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 33

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳ جلد دہم اسی سے ان کا حقیقی تعلق تھا اور اسی کے عشق میں وہ ہر وقت محو اور گداز رہتے تھے۔ خدا تعالیٰ سے محبت رکھنے والوں کو اس کی نصرت حاصل ہوتی ہے جب ایسی حالت ہو تو قدیم سے یہ سنت اللہ ہے کہ ایسے شخص کی خدا تعالیٰ تائید اور نصرت کرتا ہے اور غیبی طور پر اسے مدد دیتا ہے اور ہر ایک میدان میں اُسے فتح نصیب کرتا ہے۔ دیکھو! مذہب اسلام میں ہزاروں اولیاء گذرے ہیں ۔ ہر ایک ملک میں ایسے چار پانچ لوگ تو ضرور ہی ہوتے ہیں لے جن کو اس وقت تک لوگ بڑی عزت سے یاد کرتے ہیں اور ان کے مجاہدات اور کرامات کا عجیب عجیب طرح سے تذکرہ کرتے ہیں اور دہلی کا تو ایک بڑا میدان اسی قسم کے بزرگوں سے بھرا پڑا ہے۔ غرض سوچنا چاہیے کہ اگر ایک انسان ایک ڈاکو اور چور سے دلی محبت رکھے تو اگر وہ چور زیادہ احسان نہ کرے گا تو اتنا ضرور کرے گا کہ اس کی چوری نہ کرے گا۔ تو اب سمجھنا چاہیے کہ جب محبت کرنے سے چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے تو کیا خدا سے فائدہ نہیں ہوتا ؟ ہوتا ہے اور ضرور ہوتا ہے کیونکہ خدا تو بڑا رحیم کریم اور بڑے فضلوں اور احسانوں والا ہے۔ جو لوگ کرموں، اواگون اور جونوں کی راہ لیے بیٹھے ہیں میرا یقین ہے کہ ان کو اس راہ کا خیال تک بھی نہیں ۔ جب محبت کے ثمرات اسی دنیا میں پائے جاتے ہیں اور جب ایک شخص کو دوسرے سے سچی اور خالص محبت ہوتی ہے تو وہ اس سے کوئی فرق نہیں کرتا۔ تو کیا خدا ہی ایسا ہے کہ جس کی دوستی کسی کام نہیں آتی ؟ وہ لوگ قابل الزام ہیں جو خدا کو شرم ناک الزاموں سے یاد ہندوؤں کا نظریہ نجات کرتے ہیں۔ مثلاً ہندوؤں اور آریوں میں دا میں دائمی مکتی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مکتی خانہ میں داخل کرتے وقت ایک گناہ پر میشر باقی رکھ لیتا ہے اور پھر ایک وقت کے بعد اس لے بدر میں ہے۔ ”دار الکفر والشرک میں بھی کم ایسی جگہ ہیں جہاں دو چار قبریں ایسے بزرگوں کی نہ ہوں جو ولی اللہ کہلائے ۔“ ( بدر جلدے نمبر ا مورخه ۹ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه ۶)