ملفوظات (جلد 10) — Page 392
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۲ جلد دہم پھر اس شخص نے پوچھا کہ آپ نے کیا اصلاح فرمائی ؟ آپ نے کیا اصلاح کی؟ فرمایا۔ دیکھو چار لاکھ سے زیادہ آدمیوں نے میرے ہاتھ پر فسق و فجور اور دیگر گناہوں اور فاسد عقیدوں سے توبہ کی ۔ انسان جب فسق و فجور میں پڑتا ہے تو کافر کا حکم رکھتا ہے۔ کوئی دن نہیں گزرتا جب کئی اشخاص تو بہ کرنے کے لئے نہیں آتے ۔ ہر امر میں اللہ کی طرف رجوع کرنا ایک بڑی بات ہے۔ مسلمانی صرف یہی نہیں جیسے تم سمجھتے ہو۔ نیکی کرنا نہایت مشکل کام ہے۔ ریا کاری کے ساتھ عمل باطل ہو جاتا ہے۔ یہ زمانہ ایسا زمانہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ عمل کرنا مشکل ہے۔ دنیا کی طرف لوگوں کی توجہ ہے۔ ہر صدی کے سر پر اسی قسم کی غلطیوں کو مٹانے اور توجہ الی اللہ دلانے کے لئے مجدد کا وعدہ دیا گیا ہے۔ اگر ہر صدی پر مجدّد کی ضرورت نہ تھی بلکہ بقول آپ کے قرآن کریم اور علماء کافی تھے تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض آتا ہے حج کرنے والے حج جاتے ہیں۔ زکوۃ بھی دیتے ہیں۔ روزے بھی رکھتے ہیں۔ پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سو برس کے بعد مجدد آئے گا۔ مخالفین بھی اس بات کے قائل ہیں۔ پس اگر میرے وقت میں ضرورت نہ تھی تو پیشگوئی باطل جاتی ہے۔ ظاہری حالت پر ہی نہیں جانا چاہیے۔ غیب کا حال تو اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ۔ وَيْلٌ لِلْمُصَدِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (الماعون : ۶،۵) یعنی لعنت ہے ان نمازیوں پر جو اپنی صلوٰۃ کی حقیقت سے بے خبر ہیں ۔ پس فلاح وہی پاتا ہے اور وہی سچا مومن کہلاتا ہے جو نیکی کو اس کے لوازم کے ساتھ کرتا ہے۔ یہ بات اس زمانہ میں بہت کم لوگوں میں موجود ہے۔ پس ان اندرونی بیرونی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے میں اپنے وقت پر آیا۔ اگر میں خدا کی طرف سے نہیں تو یہ سلسلہ تباہ ہو جاوے گا۔ اگر میں خدا کی طرف سے ہوں تو یا درکھو کہ پھر مخالف ناکام رہیں گے۔ ۱ بدر جلدے نمبر ۲۳ مورخه ۱۱ جون ۱۹۰۸ ء صفحہ ۷