ملفوظات (جلد 10) — Page 388
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸۸ جلد دہم اس کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ اصل میں وہ شخص ان کے دل کی خیالی تصویر کے مطابق نہیں ہوتا۔ جو کچھ انہوں نے سمجھا ہوتا ہے وہ نہیں بلکہ کچھ اور ہی پاتے ہیں۔ تو بداعتقاد اور بدظن ہو جاتے ہیں ۔ اور اصل میں یہ وہیں ہوتا ہے جہاں ایسے امور میں اوّل غلو سے کام لیا جاوے مگر انبیاء ایسی ذات اور وجود ہوتے ہیں کہ وہ اپنا وجود دکھا کر اپنی عظمت قائم کرتے ہیں ۔ ۲۴ رمتی ۱۹۰۸ء (قبل عصر ) لو ۲۳ رمتی ۱۹۰۸ء کو بعد نماز عصر چند ہندو ہند و مستورات کو شرک ترک کرنے کی تلقین مستورات حضرت امام الزمان مسیح موعود مہدی مسعود علیہ الصلاۃ والسلام کے در دولت پر آئیں اور بیان کیا کہ ہم مہاراج کے درشن کے واسطے آئی ہیں حضور علیہ السلام کی خدمت میں اطلاع کی گئی۔ چنانچہ آپ نے نہایت لطف اور مہربانی سے ان کو اجازت دی اور وہ گھر میں جا کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔ حضرت اقدس چونکہ ان دنوں مضمون رسالہ پیغام صلح کے لکھنے میں مصروف تھے تھوڑی دیر کے بعد آپ نے فرمایا کہ lal اب درشن ہو گئے اب تم جاؤ۔ مگر انہوں نے عرض کی کہ ہم کو آپ کوئی وعظ سناویں ہم اسی واسطے حاضر خدمت ہوئی ہیں ۔ چنانچہ آپ نے ان کے اصرار اور اخلاص کی وجہ سے ان کو یوں مخاطب کیا ( جو کہ آپ نے ۲۴ رمئی ۱۹۰۸ ء کو قبل عصر بیان فرمایا ) فرمایا۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ لوگوں میں اگر دو ایک باتیں نہ ہوں تو آپ لوگ آریہ وغیرہ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۷ ۳ مورخه ۶ جون ۱۹۰۸ صفحه ۶،۵ نیز بدرجلد ۷ نمبر ۲۴ مورخه ۱۸ رجون ۱۹۰۸ صفر ۱۹۰۱ صفحه ۱۰۰۹ ے ہند و مستورات حضور علیہ السلام کی زیارت کے لیے ۲۳ رمئی کو بعد نماز عصر آئیں اور حضور علیہ السلام نے ۲۴ رمئی کو قبل نماز عصر ان سے اپنی گفتگو کا ذکر فرمایا۔ اس لیے ان ملفوظات پر ۲۴ رمئی کی تاریخ درج ہے۔ (خاکسار مرتب )