ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 386 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 386

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸۶ جلد دہم ہی کے آنے کا زمانہ ہے؟ ضرورت کا احساس تو دلوں میں موجود ہے۔ حالات موجودہ پکار کر کہہ رہے ہیں کہ کسی مصلح کی ضرورت ہے۔ چنانچہ آج ہی پیسہ اخبار میں ایک انگریز کا مضمون تھا۔ اس نے کسی جگہ پر اپنے لیکچر میں بیان کیا کہ زمانہ پکار کر کہہ رہا ہے کہ ہندو، مسلمان، عیسائیوں اور یہودیوں کو اتفاق کی ضرورت ہے چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ مسلمان، یہودی اور نصرانی سب کے سب بلا امتیاز انسانی گروہ میں اتحاد و اتفاق دیکھنے کے مشتاق ہیں اور مہدی موعود کے آنے کا انتظار دیکھ رہے ہیں جو کہ دیر یا سویر عالم وجود میں آکر تمام انسانوں میں یگانگت کا رشتہ قائم کر دے گا۔ میں اس مہدی کے متعلق اپنی ذاتی رائے یہ رکھتا ہوں کہ وہ اہل قلم میں سے ہوگا اور اسی زبر دست آلہ کے ذریعہ سے اقوام عالم کے دلوں میں تخم یگانگت ہو سکے گا ۔" غرض اس امر کا احساس تو ہر ملک وملت کے لوگوں میں پایا جاتا ہے مگر چاہیے تھا کہ ضرورت کے مطابق کوئی پیدا بھی ہوتا اور وہ اسلام کا نور اور برکات دکھا کر زندہ معجزات سے اسلام کے فیوض اور زندگی کا ثبوت دیتا نہ یہ کہ اس زمانہ پر پہنچ کر خاموشی اختیار کی جاتی اور کہا جاتا ہے کہ اب اسلام زندہ نہیں بلکہ مردہ ہے اور کوئی ولی یا بزرگ موجود نہیں جو نشانات دکھا کر اسلام کی زندگی کا ثبوت دے ۔ مانا کہ اخلاق فاضلہ بھی کسی مذہب کی صداقت کی کسی قدر دلیل ہو سکتے ہیں اور ان کا بھی کسی قدر اثر بیرونی لوگوں پر ہوتا ہے۔ مگر صرف اخلاق فاضلہ ہی حقیقی اور زندہ ایمان نہیں دے سکتے بلکہ وہ درجہ ایمان جو انسان کو خدا تعالیٰ پر کامل ایمان عطا کرتا ہے اور گناہ سوز زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ وہ صرف خدا کے اپنے تازہ نشانوں سے ہی پیدا ہوتا ہے جو وہ اپنے ماموروں کی معرفت دنیا میں ظاہر کرتا ہے۔ فرمایا۔ موجودہ صورت ہندوؤں اور مسلمانوں میں خوشگوار تعلقات کی خواہش میں تو بہ نسبت مسلمانوں کے ہمیں ہندوؤں سے زیادہ امید نظر آتی ہے کیونکہ وہ تعلیم کی ترقی کی وجہ سے اور کچھ تجربہ کی وجہ ے پیسہ اخبار ۲۲ رمئی ۱۹۰۸ء