ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 30

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰ جلد دہم موجود ہے جو جزا سزا کا منکر ہے۔ جو لوگ خدا کو رحیم نہیں مانتے ان کو تو بے پروا بھی کہہ سکتے ہیں مگر جو مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ والی صفت کو نہیں مانتے وہ تو خدا تعالیٰ کی ہستی سے بھی منکر ہوتے ہیں اور جب خدا کی ہستی ہی نہیں جانتے تو پھر جزا سزا کس طرح مانیں؟ غرض ان چار صفات کو بیان کر کے خدا فرماتا ہے کہ اے مسلمانو ! تم کہو إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی اے چار صفتوں والے خدا ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور اس کام کے لئے مدد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں اور یہ جو حدیث شریف میں آیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے عرش کو چار فرشتوں نے اُٹھایا ہوا ہے اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس کی ان چاروں صفات کا ظہور موجود ہے اور اگر یہ چار نہ ہوں یا چاروں میں سے ایک نہ ہو تو پھر خدا کی خدائی میں نقص لازم آتا ہے۔ اور بعض لوگ نا سمجھی سے عرش کو جو ایک مخلوق چیز مانتے ہیں تو وہ غلطی پر ہیں عرش کی حقیقت اُن کو سمجھنا چاہیے کہ عرش کوئی ایسی چیز نہیں جس کو مخلوق کہہ سکیں ۔ وہ تو تقدس اور تنزہ کا ایک وراء الوراء مقام ہے۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ جیسے ایک بادشاہ تخت پر بیٹھا ہوا ہوتا ہے ویسے ہی خدا بھی عرش پر جلوہ گر ہے۔ جس سے لازم آتا ہے کہ محدود ہے۔ لیکن ان کو یا د رکھنا چاہیے کہ قرآن مجید میں اس بات کا ذکر تک نہیں کہ عرش ایک تخت کی طرح ہے جس پر خدا بیٹھا ہے کیونکہ نعوذ باللہ اگر عرش سے مراد ایک تخت لیا جاوے جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے تو پھر ان آیات کا کیا ترجمہ کیا جاوے گا۔ جہاں لکھا ہے کہ خدا ہر ایک چیز پر محیط ہے اور جہاں تین ہیں وہاں چوتھا اُن کا خدا۔ اور جہاں چار ہیں وہاں پانچواں ان کا خدا اور پھر لکھا ہے نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ( ق : ۱۷) اور وَ هُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمُ ( الحديد : ۵ ) غرض اس بات کو اچھی طرح سے یاد لے بدر سے۔ جاہل نہیں سمجھتے کہ اگر قرآن میں ایک طرف الرَّحْمنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى (طه: ۶) ہے تو دوسری طرف یہ بھی ہے کہ کوئی تین نہیں جس میں چوتھا وہ نہیں اور کوئی پانچ نہیں جس میں چھٹا وہ نہیں اور فرمایا کہ جہاں کہیں تم ( بدر جلدے نمبر امورخه ۹ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه ۵) ہو میں تمہارے ساتھ ہوں ۔ 66 ہے اس سے ظاہر ہے کہ بعض وقت ڈائری نویس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصل الفاظ نہیں لکھتے بلکہ مفہوم اور