ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 370 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 370

ملفوظات حضرت مسیح موعود ٣٧٠ جلد دہم مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا (الانعام : (۲۲) اور وہ شخص جو رات کو ایک بات بنا تا اور دن کو لوگوں کو بتاتا اور کہتا ہے کہ مجھے خدا نے ایسا کہا ہے وہ کیوں کر با مراد اور با برگ و بار ہو سکتا ہے؟ اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے ۔ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ( الحاقة : ۴۵ تا ۷ (۴) جب ایک ایسے عظیم الشان انسان کے واسطے ایسا فرمان ہے تو پھر ادنی انسان کے واسطے تو چھوٹی سی چُھری کی ضرورت تھی اور کبھی کا فیصلہ ہو گیا ہوتا۔ کے ۱۸ رمئی ۱۹۰۸ء (بعد نماز ظہر - بمقام لاہور ) ۔ پروفیسر ریگ کے بعض سوالات کے جوابات وی پروفیسر ریگ جن کا کسی پھلی اشاعت میں حضرت اقدس سے ملاقات کرنا اور سوال و جواب شائع ہو چکا ہے ۔ ۱۸ رمئی ۱۹۰۸ ء کو پھر حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی تحریک اور وساطت سے حضرت اقدس کے حضور حاضر ہوئے اور خیریت حال دریافت کرنے کے بعد ذیل کا سوال و جواب ہوا۔ سوال ۔ آپ کا کیا عقیدہ ہے خدا محدود ہے یا کہ ہر جگہ حاضر ناظر اور اس میں کوئی شخصیت یا جذبات پائے جاتے ہیں ۔ جواب ۔ ہم خدا کو محدود نہیں سمجھتے اور نہ ہی خدا محدود ہو سکتا ہے۔ ہم خدا کی نسبت یہ جانتے ہیں کہ جیسا وہ آسمان پر ہے ویسا ہی زمین پر بھی ہے۔ اس کے دوقسم کے تعلق پائے جاتے ہیں ایک عام تعلق جو عام مخلوق کے ساتھ ہے اور ایک دوسرا خاص تعلق جوان خاص بندوں کے ساتھ ہوتا ہے جو اپنے آپ کو پاک کر کے اس کی محبت میں ترقی کرتے ہیں۔ تب وہ ان سے ایسا قریب ہو جاتا ہے جیسا کہ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۲ تا ۱۳