ملفوظات (جلد 10) — Page 366
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۶ جلد دہم تو یقیناً جانو کہ اسلام بھی مر گیا اور پھر کوئی امتیازی نشان بھی نہیں ہے۔ ایک باغ جس کو اس کے مالی اور باغبان نے چھوڑ دیا ، اسے بھلا دیا ، اس کی آبپاشی کی اس کو فکر نہیں تو پھر نتیجہ ظاہر ہے کہ چند سال بعد وہ باغ خشک ہو کر بے ثمر ہو جاوے گا اور آخر کا رلکڑیاں جلانے کے کام میں لائی جاویں گی۔ اصل میں ان کی اور ہماری تو نزاع لفظی ہے۔ مکالمہ مخاطبہ کا تو یہ لوگ خود بھی اقرار کرتے ہیں۔ مجدد صاحب نے بھی اس کے قائل ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جن اولیاء اللہ کو کثرت سے خدا کا مکالمہ مخاطہ ہوتا ہے وہ محدث اور نبی کہلاتے ہیں ۔ کے اچھا میں پوچھتا ہوں کہ ایک انسان خدا سے خبر پا کر دنیا پر ظاہر کرے تو اس کا نام آپ لوگ عربی زبان میں بجز نبی کے اور کیا تجویز کرتے ہیں؟ عجیب بات ہے کہ اسی لفظ کے مفہوم کو اگر زبان اردو میں یا پنجابی میں بیان کیا جائے تو مان لیتے ہیں اور اگر عربی میں پیش کریں تو نفرت اور انکار کرتے ہیں یہ تعصب نہیں تو اور کیا ہے؟ اب صرف یہی بات باقی ہے جسے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ ان لوگوں نے شاید اس مہذب اور تعلیم یافتہ گروہ کو بھی اس امر میں دھوکا دیا ہو اور ہم سے بدظن کرنے کی کوشش ( کی ) ہو۔ لہذا میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ لوگوں پر ظاہر کر دوں کہ خدا نے مجھے تجدید دین کے واسطے تائید اور نصرت کے ساتھ تازہ نشانات دے کر بھیجا ہے تا دین کو تازہ کر دیا جاوے۔ آپ یقیناً سمجھیں کہ اگر خدا نے مجھے نہ بھیجا ہوتا تو یہ دین بھی اور دینوں کی طرح صرف قصے کہانیوں میں ہی محدود ہو جاتا۔ خدا سے آنے والا نابود نہیں کیا جاتا۔ انجام کا رخدا اس کی سرسبزی دنیا پر ظاہر کر دیتا ہے۔ ان لوگوں نے میری توہین کے واسطے جھوٹ سے تہمت سے افترا سے اور طرح طرح کے حیلوں سے کام لیا ہے اور ہماری ترقی کو روکنے کے واسطے ہم سے لوگوں کو بدظن کرنے کے واسطے وو ے بدر سے مجدد صاحب سرہندی وو ( بدر جلدی نمبر ۲۵ مورخه ۲۵ جون ۱۹۰۸ ء صفحه ۹) ے بدر میں یہ الفاظ ہیں ۔ " حضرت مجدد سرہندی بھی ایسے مکالمہ کے قائل ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی خدا سے خبر پا کر پیشگوئی کرتا ہے تو اسے عربی میں نبوت کے سوا اور کیا کہیں گے ۔“ 66 ( بدر جلدی نمبر ۲۵ مورخه ۲۵ جون ۱۹۰۸ ء صفحه (۹)