ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 364 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 364

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۴ جلد دہم یہ بھی مجھ پر الزام لگایا گیا ہے کہ میں معجزات سے منکر ہوں حالانکہ میرا ایمان ہے کہ بغیر معجزات کے زندہ ایمان ہی نصیب نہیں ہو سکتا ۔ لے عقل انسان کا کہاں تک ساتھ دے سکتی ہے اور اس کی مدد سے یہ کہاں تک ترقی کر سکتا ہے؟ خدا زندہ موجود ہے اور جس طرح اس نے پہلے کام کئے ہیں اب بھی ضرور ہے کہ اسی طرح کرے ۔ کیا وجہ کہ پہلے معجزات اور خوارق پر ایمان لایا جاتا ہے اور گذشتہ کا حوالہ دیا جاتا ہے کیا اب خدا بڑھا ہو گیا ہے؟ یا خدا کی قوت گویائی جاتی رہی ہے؟ یا اس کی قوت نصرت اور قدرت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے؟ حال کے فلسفہ والے ان باتوں کو نہیں مانتے مگر میں خود اس میں صاحب تجربہ ہوں۔ جس طرح پہلے نشان ظاہر ہوتے تھے اب بھی ہوتے ہیں اور اسی طرح خدا اپنے خاص بندوں کی تائید اور نصرت کرتا ہے اور اسی طرح وحی اور الہام سے ان کی تائید کرتا ہے اگر تمہارے اعتقاد کے موافق مان لیا جاوے کہ اب کوئی سلسلہ وحی والہام نہیں رہا اور وہ مردہ ہو گیا ہے تو پھر مردے سے کیا امید رکھ سکتے ہو؟ کیا مردہ مردے کو زندہ کر سکتا ہے اور اندھا اندھے کی راہبری کر سکتا ہے؟ میں سچ کہتا ہوں کہ خدا اسی طرح زندہ ہے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زندہ تھا خدا نے ہمیں ایک خاص مقام پر پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔ کیا اب وہ ہمیں رستے میں ہی چھوڑ دے گا؟ مثال کے طور پر بیان کرتا ہوں کہ مثلاً ایک اندھے سے کسی نے وعدہ کیا کہ تمہیں مدراس یا کلکتہ تک پہنچادیں گے مگر جب وہ نصف راستہ میں پہنچا تو اس کو چھوڑ دیا ۔ اب وہ نہ ادھر کا نہ ادھر کا ۔ کیا یہ انصاف ہے اور ظلم نہیں؟ ہم خدا پر ایسا الزام نہیں لگا سکتے کہ اس نے وعدہ تو کیا کہ قیامت تک خلفاء اور مجددین کا سلسلہ جاری رکھوں گا مگر ایک خاص وقت کے بعد اس نے ایسا کرنا چھوڑ دیا۔ سورۃ نور میں آیت استخلاف کو غور سے پڑھ کر دیکھ لو۔ میں بھی اسی وعدہ کے موافق آیا ہوں اور اس واسطے موعود کہلاتا ہوں ۔ یہ نہیں کہ آواگون کے طور پر وہی مسیح آگیا ہو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ لے بدر سے۔ ”جس دین میں زندہ معجزات نہیں وہ دین قائم رہ سکتا ہی نہیں ۔“ 66 ( بدر جلدی نمبر ۲۵ مورخه ۲۵ جون ۱۹۰۸ ء صفحه (۸)