ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 27

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷ جلد دہم اسی کی طرف اللہ جل شانۂ قرآن مجید میں اشارہ فرماتا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم : ۴۲) یعنی تمام لوگ کیا اہل کتاب اور کیا دوسرے سب کے سب بدعقید گیوں میں مبتلا تھے اور دنیا میں فساد عظیم بر پا تھا۔ غرض ایسے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے تمام عقائد باطلہ کی تردید کے لیے قرآن مجید جیسی کامل کتاب ہماری ہدایت کے لئے بھیجی جس میں گل مذاہب باطلہ کارڈ موجود ہے۔ اور خاص کر سورہ فاتحہ میں جو پنج وقت ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھی سورہ فاتحہ کی فضیلت جاتی ہے اشارہ کے طور پر گل عقائد کا ذکر ہے جیسے فرما یا الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ یعنی ساری خوبیاں اس خدا کے لئے سزاوار ہیں جو سارے جہانوں کو پیدا کرنے والا ہے الرحمن وہ بغیر اعمال کے پیدا کرنے والا ہے اور بغیر کسی عمل کے عنایت کرنے والا ہے۔ الرحیم اعمال کا پھل دینے والا مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ جزا سزا کے دن کا مالک ۔ ان چار صفتوں میں گل دنیا کے فرقوں کا بیان کیا گیا ہے۔ بعض لوگ اس بات سے منکر ہیں کہ خدا ہی تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا آریوں کا رڈ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو یعنی ارواح اور پر مانو یعنی ذرات خود بخود ہیں اور جیسے پر میشر آپ ہی آپ چلا آتا ہے ویسے ہی وہ بھی آپ ہی آپ چلے آتے ہیں اور ارواح اور اُن کی گل طاقتیں ، گن اور خواص جن پر دفتروں کے دفتر لکھے گئے خود بخود ہیں اور باوجود اس کے کہ ان میں قوت اتصال اور قوت انفصال خود بخود پائی جاتی ہے وہ آپس میں میل ملاپ کرنے کے لئے ایک پرمیشر کے محتاج ہیں۔ غرض یہ وہ فرقہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے رب العلمین کہہ کر اشارہ کیا ہے۔ دوسرا فرقہ وہ ہے جس کی طرف الرحمن کے لفظ میں سناتن دھرم کے عقائد کی تردید اشارہ ہے اور یہ فرقہ سناتن دھرم والوں کا ہے گو وہ مانتے ہیں کہ پرمیشر سے ہی سب کچھ نکلا ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ خدا کا فضل کوئی چیز نہیں وہ کرموں کا ہی پھل دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی مرد بنا ہے تو وہ بھی اپنے اعمال سے اور اگر کوئی عورت بنی ہے تو وہ بھی اپنے اعمال سے اور اگر ضروری اشیاء حیوانات نباتات وغیرہ بنے ہیں تو وہ بھی اپنے اپنے