ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 324 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 324

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۴ جلد دہم اور دوسرے دینوں میں فرق کیا رہ گیا ؟ اسلام میں اگر کوئی چیز ما بہ الامتیاز ہے تو یہی کہ اس کے پیرو الہی مکالمات و مخاطبات سے مشرف ہوتے ہیں۔ خشک توحید کے قائل تو اور مذاہب بھی ہیں مثلاً یہود پھر برہمو سماج ۔ یہ سوال ہو سکتا ہے کہ لا الهَ اِلَّا الله کے ساتھ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ پڑھنے کا کیا فائدہ ہے؟ یہی تو فائدہ ہے کہ سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت و پیروی و تصدیق رسالت اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے اور ان انعامات کا وارث جو اگلے برگزیدہ انبیاء پر ہوئے ۔ اللہ نے اس کا نام فرقان رکھا ہے۔ چنانچہ فرمایا ( يَجْعَلُ لَكُمْ فُرْقَانًا (الانفال:۳۰) یعنی وہ تمہیں ایک فرقان دے گا۔ پس دوسرے مذاہب ( اور ) اس میں ایک مابہ الامتیاز اسی جہان میں ہونا ضروری ہے۔ ہم اپنی بات کا ذکر نہیں کرتے ۔ ہمارے معاملہ کو الگ رکھ کر کوئی ہمیں سمجھائے کہ اگر اسلام بھی خشک توحید ہی لے کر آیا تھا جیسے کہ یہودی رکھتے اور برہمو سماج کے لوگ اس کے قائل ہیں تو اتنا بڑا شریعت کا بوجھ ڈالنے کی کیا ضرورت تھی؟ ایک طرف تو مانتے ہیں کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے ۔ اس میں کوئی ما بہ الامتیاز نہیں بتاتے اور اس کے جو کمالات اور خوبیاں ہیں وہ بھی مردوں میں بتاتے ہیں۔ گو یا زندوں کے لئے کچھ نہیں ۔ مصنوع سے صانع کی طرف جانا خدا تعالیٰ کی ہستی کا اعلیٰ ثبوت نہیں ہو سکتا ۔ بلکہ خدا شناسی کا یہی ایک ذریعہ ہے کہ وہ خود آنَا الْمَوْجُودُ کہے۔ پچھلے قصے تو دوسرے مذاہب بھی سناتے ہیں۔ پس اس کے مقابل میں اگر تم بھی دو چار گذشتہ قصے سنا دو تو اس میں بہتری کیا ہوئی اور اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ جو کچھ تم کہتے ہو وہ تو سچ ہے مگر جو دوسرا بیان کرتا ہے کہ ہمارے راہنما نے یہ یہ معجزہ دکھا یا وہ غلط ہے؟ دیکھو! انجیل میں ایسے معجزوں کا بھی ذکر ہے کہ جب عیسی کو صلیب دیا گیا تو سب مُردے قبروں سے نکل آئے ۔ ہماری عقل کا تو یہاں آکر خاتمہ ہے کہ ایک شہر میں تمام مردے کس طرح سما گئے ۔ اور پھر باوجود ان کے نکلنے کے یہودیوں نے عیسی کو کیوں نہ مانا ؟ پس ایسے قصوں کے مقابلہ میں اگر ہماری طرف سے بھی قصے ہی ہوں تو کسی مخالف پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ اس پر ایک صاحب نے پوچھا۔ شق القمر کی نسبت حضور کیا فرماتے ہیں؟ معجزہ شق القمر ان پر ایک نے پو چھاین امری است قصیر زه حق اسمر فرمایا۔ ہماری رائے میں یہی ہے کہ وہ ایک قسم کا خسوف تھا۔ ہم نے اس کے