ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 321 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 321

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۱ جلد دہم مخالفوں کے سب وشتم کا ذکر تھا۔ مخالفت کا فائدہ فرمایا۔ دکھ کا شکاری میں سب چیزوں ہی سے کام لیا جاتا ہے۔ پانی ہے۔ بیج ہے۔ مگر پھر بھی اس میں کھاد ڈالنے کی ضرورت پڑتی ہے جو سخت نا پاک ہوتی ہے۔ پس اسی طرح ہمارے سلسلے کے لئے بھی گندی مخالفت کھا د کا کام دیتی ہے۔ فرمایا۔ اسلامی فرقوں میں دن بدن پھوٹ پڑتی جاتی ہے۔ جماعت کے قیام کا مقصد پھوٹ اسلام کے لئے سخت مضر ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَ لَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَ تَذْهَبَ رِيحُكُمُ (الانفال :۴۷) جب سے اسلام کے اندر پھوٹ پڑی ہے دم بدم تنزل کرتا جاتا ہے۔ اس لئے خدا نے اس سلسلہ کو قائم کیا تا لوگ فرقہ بندیوں سے نکل کر اس جماعت میں شامل ہوں جو بے ہودہ مخالفتوں سے بالکل محفوظ ہے اور اس سیدھے رستے پر چل رہی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا۔ دوسرے کلمہ گوؤں سے ہمارا اختلاف ہم چاہتے ہیں کہ چند مہذب و شائستہ ومنصف مزاج وخدا ترس لوگ جمع ہوں اور ہم انہیں سمجھائیں کہ ہمارا مذہب کیا ہے اور دوسرے کلمہ گوؤں سے ہمارا کس بات میں اور کیوں اختلاف ہے؟ دراصل ایسے وقت میں خدا نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے جبکہ اسلام دو حملوں کے صدمے اٹھا رہا ہے۔ ایک بیرونی طور سے حملہ ہے اور ایک اندرونی طور سے۔ چنانچہ بعض مسلمانوں ہی میں سے کہتے ہیں کہ اسلام کے احکام کوئی نہیں ۔ یہ روزہ و نماز و حج پرانے زمانے کی باتیں ہیں جو کچھ عرب کے وحشیوں کے لئے ہی مفید ہو سکتی تھیں۔ پھر قیامت کے حالات پر طرح طرح کے اعتراض کرتے ہیں ۔ دوم وه لا وہ لوگ ہیں جو افراط کی طرف گئے ہیں اور وہ بعض انبیاء کی شان میں غلو کرتے کرتے یہاں تک پہنچے ہیں کہ انہیں خدا تک بنا دیا ہے۔ ایک حضرت عیسی ہی کو لو۔ ان کو بعض ایسی صفات کا صاحب گردانا ہے جو خاصہ الوہیت ہیں ۔