ملفوظات (جلد 10) — Page 310
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۰ جلد دہم یہ تعلیم دی گئی ہے کہ لا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى (الانعام : ۱۶۵) زید کے بدلے بکر کو سز انہیں مل سکتی اور نہ ہی اس سے کوئی فائدہ متصور ہے۔ حوا کی سیب خوری ان مشکلات اور رنج وسزا کا باعث نہیں ہے بلکہ ان کے وجوہات قرآن نے کچھ اور ہی بیان فرمائے ہیں ۔ سوال۔ دو باتیں میں دریافت کرنا چاہتا ہوں ۔ ایک یہ کہ گناہ کیا چیز ہے۔ ایک ملک کا انسان ایک امر کو گناہ یقین کرتا ہے۔ حالانکہ ایک دوسرے ملک کا انسان اسی امر کو گناہ نہیں سمجھتا۔ انسان ایک کیڑے سے ترقی کرتا کرتا انسان بنا اور پھر حق و باطل میں امتیاز حاصل کیا۔ صداقت اور جھوٹ میں فرق کیا۔ نیکی اور بدی کو سمجھا۔ گناہ اور ثواب کا علم پیدا کیا۔ بایں ہمہ پھر اس امر میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک امر ایک شخص کے نزدیک گناہ ۔ دوسرا اس کو گناہ نہیں سمجھتا اور کرتا ہے۔ دوسرا یہ کہ شیطان کیا چیز ہے۔ خدا کے اس علم اور قدرت کا مالک ہوتے ہوئے بھی شیطان کا اس قدر قابو پا جانا کہ اس کی اصلاح کے واسطے خود خدا کو دنیا میں آنا پڑا۔ اس سے کیا مراد ہے؟ جواب ۔ اصل میں جو لوگ خدا کی ہستی کو ماننے والے ہیں۔ ہم ان کے مذاق گناہ کی حقیقت پر گفتگو کرتے ہیں۔ خدا کی ذات انسان کی زندگی کے واسطے ایک دائمی راحت پر اور خوشی کا سرچشمہ ہے۔ جو شخص اس سے الگ ہوتا ہے یا کسی نہ کسی پہلو سے اس کو چھوڑتا ہے۔ اس حالت میں کہا جاتا ہے کہ اس شخص نے گناہ کیا۔ خدا نے فطرت انسانی پر نظر ڈال کر جو اعمال بار یک دربار یک رنگ میں خود انسان کی اپنی ہی ذات کے واسطے مصر پڑنے والے تھے ان کا نام بھی گناہ رکھا۔ گو بعض اوقات انسان ان کی مضرت کو نہ سمجھ سکتا ہو مثلاً چوری کرنا اور دوسروں کے حقوق میں دست اندازی کر کے ان کو نقصان پہنچانا ۔ گو یا خود اپنی پاک زندگی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ زانی کا زنا کرنا اور دوسروں کے حق میں دست درازی کرنا اور خود اپنی فطرت کی پاکیزگی کو بر باد کرنا اور طرح طرح کے مشکلات جسمانی ، روحانی میں مبتلا ہونا ہے اس طرح سے وہ امور بھی جو فطرت انسانی کی پاکیزگی اور طہارت کے خلاف ہوں گناہ کہلاتے ہیں اور پھر ان امور کے لوازم قریبہ یا بعیدہ بھی گناہ کے ضم ضمیمہ ہی سمجھے جاتے ہیں ۔ خدا جو سب سے بڑا اور سب سے زیادہ علم والا ،