ملفوظات (جلد 10) — Page 303
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۳ جلد دہم اس کے بعد حضرت اقدس نے پھر اس سلسلہ کلام کو شروع موجودہ زمانہ میں اصلاح کا کام کر کے فرمایا کہ زمانہ موجودہ کے حالات کے لحاظ سے مسئلہ اصلاح کچھ بہت ہی مشکل اور پیچیدہ سا نظر آتا ہے۔ آجکل کچھ ہوا ہی اس کے خلاف چل رہی ہے۔ ہم جو امر پیش کر رہے ہیں وہ تو ایک داروئے تلخ ہے۔ یہ لوگ اپنی میٹھی میٹھی عادات چھوڑ کر کڑوی دوا جب ہی استعمال کر سکتے ہیں کہ اس کی حقیقت سے ان کو پوری واقفیت اور آگاہی ہو کہ واقع میں وہ مٹھائی ان کے حق میں مصر اور یہ دارو۔ روئے تلخ آب حیات کا اثر رکھتی ہے اور جب ہی کچھ فائدہ ہو سکتا ہے۔ خدا نے جو قید لگائی ہے اس میں سراسر رحمت اور کرم ہے۔ بھلا ان بے قیدیوں کا انجام ہی کیا ہے؟ یہی ہوتا ہے کہ شرابخوری اور فسق و فجور میں یہ لوگ غرق نظر آتے ہیں اور پھر ان سے جو بد نتائج نکلتے ہیں وہ کیسے خطرناک ہیں؟ دنیا ان کا روز نظارہ کر رہی ہے۔ لقوہ، فالج ، آتشک ، سوزاک اور بعض اوقات جذام تک نوبت پہنچتی ہے اور اس طرح زندگی خطرناک مصائب میں مبتلا ہو کر خوار ہو جاتی ہے چاہیے کہ اس بے قیدی اور اس قید کے نتائج کا مقابلہ کر کے تو دیکھیں مگر یہ نوجوان جن کو نئی تعلیم کے مصالح لگے ہوئے ہیں سمجھتے نہیں۔ اس مصالح سے ہی ڈر آتا ہے مگر پھر بھی نا امید نہیں ہونا چاہیے۔ میں اس تجویز کا بھی مخالف نہیں جو اس گروہ کی سچی ہمدردی اور اصلاح کے واسطے کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے بلکہ زور سے اس کے موافق ہوں ۔ سو میں سے ایک ہی سہی ورنہ ان کے ٹھٹھا ہنسی کرنے سے ہی ہمیں اپنی محنت کا ثواب مل رہے گا۔ قاعدہ کی بات ہے کہ جب کسی ایسے مجمع میں جہاں سو پچاس آدمی جمع ہوں کوئی بات کہی جاتی ہے تو ان میں اختلاف ضرور ہو جاتا ہے۔ اگر بعض ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں تو بعض کو اس صداقت کی سمجھ بھی آہی جاتی ہے اگر چہ یہ سچ ہے کہ صداقت کے حصہ میں تھوڑے ہی آتے ہیں مگر وہ تھوڑے ہی جوانمرد ہوتے ہیں کیونکہ صداقت کا قبول کرنا بھی ایک جوانمردی ہے اور پھر حق اور صداقت میں ایک رعب اور طاقت ہوتی ہے۔ اس طرح سے ان کی قوت کے ساتھ ایک اور قوت شامل ہو کر بہت بڑی