ملفوظات (جلد 10) — Page 292
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۲ جلد دہم دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ جانتا ہے کہ خدا عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ہے دل سے تو مومن ہوتا نہیں مگر خدا کے آگے مومن بننا چاہتا ہے بھلا خدا کسی کے دھوکے میں آ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ دیکھو! تقویٰ ایک ایسی چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف ایک متقی انسان کی خاطر دوسروں پر بھی رحم کرتا ہے اور اس کے اہل و عیال ، خویش واقارب اور متعلقین پر بھی اثر پڑتا ہے اور اسی طرح سے اگر جرائم اور فسق و فجور کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کا اثر بھی پڑتا ہے۔ غرض خدا سے ڈرنا اور متقی بننا بڑی چیز ہے خدا اس کے ذریعہ سے ہزار آفات سے بچا لیتا ہے بجز اس کے کہ خدا تعالیٰ کی حفاظت اس کے شامل ہو۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ مجھے بلا نہیں پکڑے گی اور کسی کو بھی مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔ آفات تو نا گہانی طور سے آجاتے ہیں ۔ کسی کو کیا معلوم کہ رات کو کیا ہوگا ؟ لکھا ہے کہ ایک بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے۔ پہلے بہت استغفار کی تلقین روئے اور پھر لوگوں کومخاطب کرکے فرمایا۔ عبداللہ خداسے ڈرو آفات اور بلیات چیونٹیوں کی طرح انسان کے ساتھ لگے ہوئے ہیں ان سے بچنے کی کوئی راہ نہیں بجز اس کے کہ سچے دل سے تو بہ استغفار میں مصروف ہو جاؤ۔ استغفار اور تو بہ کا یہ مطلب نہیں جو آجکل لوگ سمجھے بیٹھے ہیں ۔ اسْتَغْفِرُ اللهَ اسْتَغْفِرُ اللهَ کہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا جبکہ اس کے معنے بھی کسی کو معلوم نہیں ۔ اسْتَغْفِرُ الله ایک عربی زبان کا لفظ ہے۔ ان لوگوں کی تو چونکہ یہ مادری زبان تھی اور وہ اس کے مفہوم کو اچھی طرح سے سمجھے ہوئے تھے۔ استغفار کے معنی یہ ہیں کہ خدا سے اپنے گذشتہ جرائم اور معاصی کی سزا سے حفاظت چاہنا اور آئندہ گناہوں کے سرزد ہونے سے حفاظت مانگنا ۔ استغفار انبیاء بھی کیا کرتے تھے اور عوام بھی ۔ بعض نادان پادریوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار پر اعتراض کیا ہے اور لکھا ہے کہ ان کے استغفار کرنے سے نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گناہ کا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ یہ نادان اتنا نہیں سمجھتے کہ استغفار تو ایک اعلیٰ صفت ہے۔ انسان فطرتاً ایسا بنا ہے کہ کمزوری اور ضعف اس لے یعنی گنہگار (مرتب) لو