ملفوظات (جلد 10) — Page 288
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۸ جلد دہم حضرت ایوب کی طرف دیکھو کہ وہ کیسے صابر حضرت ایوب علیہ السلام کا مثالی صبر تھے خدا تعالیٰ نے ان کا ذکر قرآن شریف میں بھی کیا ہے کہ وہ میرا ایک صابر بندہ ہے۔ پہلی کتابوں میں ان کا ذکر با تفصیل لکھا ہے کہ شیطان نے خدا تعالیٰ سے کہا کہ ایوب کیوں صبر نہ کرے کہ اس کو تو نے مال دیا ہے ، دولت دی ہے ، غلام دیئے ہیں ، نوکر چاکر دیئے ہیں، اولا د دی ہے، بیوی دی ہے ، صحت دی ہے تو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ تو اس کو آزما۔ اس پر پہلے تو ان کی بھیڑ بکریاں ماری گئیں ۔ پھر اور بڑے بڑے جانور مارے گئے مگر پھر بھی حضرت ایوب نے صبر سے کام لیا۔ اس پر شیطان نے کہا کہ ابھی اس کے پاس دولت اور غلام اور اولاد ہے وہ صبر کیوں نہ کرے۔ اس پر اس کے غلام بھی مر گئے ۔ پھر انہوں نے صبر کیا۔ یہاں تک کہ ہوتے ہوتے سب کچھ ہلاک ہو گیا۔ ایک وہ اور ان کی بیوی رہ گئیں۔ پھر بھی شیطان نے کہا کہ ابھی ان کی صحت درست ہے اس پر ان کو جذام ہو گیا یعنی کوڑھ ہو گیا۔ پھر بھی انہوں نے صبر سے کام لیا ۔ پس جب وہ اس طرح صابر اور صادق ثابت ہوئے تو خدا تعالیٰ نے ان کو آگے سے بھی زیادہ مال و دولت ، غلام ، لونڈیاں اور اولا د عطا فرمائی اور صحت بھی عطا فرمائی ۔ پس جب انسان صبر سے کام لے تو اس کو سب کچھ ہی مل رہتا ہے۔ انسان کو چاہیے جو کام کرے خدا کی رضا کے مطابق کرے۔ شیخ سعدی صاحب کیا عمدہ فرماتے ہیں۔ ه کہ بے حکم شرع آب خوردن خطا است اگر خون به فتویی بریزی روا است یعنی اگر تم خدا کے منشا کے برخلاف پانی پیو تو وہ گناہ ہے لیکن اگر اس کے حکم کے مطابق خون بھی کر دو تو وہ جائز ہے۔ پس میں تم کو سچ سچ کہتا ہوں کہ خدا کے سوا جس چیز کی انسان خواہش کرتا ہے۔ نہ وہ اس کو ملتی ہے نہ خدا کیونکہ اس کے سوا ہر ایک چیز فانی ہے لیکن جو شخص خدا کو پسند کرتا ہے اس کو خدا بھی ملتا ہے اور دوسری چیزیں بھی ملتی ہیں اور اس کو جو خواہش ہوتی ہے وہ پوری ہو کر رہتی ہے۔ اب میں نے جو کچھ