ملفوظات (جلد 10) — Page 286
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۶ جلد دہم اس طرح سے وہ ان کو جھوٹا نبی ثابت کرنے کے دعوے میں کامیاب ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کا رفع روحانی کیا اور ان کو ایسی ذلت اور ادبار سے بچا لیا۔ اگر رفع جسمانی ہی نجات اور پاکیزگی اور مقبول اور محبوب الہی ہونے کا موجب ہے تو پھر تو سارے ہی نبی جھوٹے ٹھہرتے ہیں اور کوئی بھی نجات یافتہ نہیں رہتا چہ جائیکہ کوئی خدا کا محبوب اور مقبول بھی ہو ( نعوذ باللہ من ذلک ) تعصب نے ان کو کسی کام کا نہیں چھوڑا۔ کے بلا تاریخ فرمایا کہ وہ ایمان کیا ہے اگر کوئی خدا تعالیٰ کو ہر چیز پر مقدم کرنا ہی نیک بختی ہے شخص کسی چیز کو یاکسی انسان کو خدا پر مقدم کر لے جب تک ہر ایک چیز پر خدا کو مقدم نہ کیا جائے تو وہ شرک کہلاتا ہے۔ دیکھو! ہمیں دو دفعہ موقع پیش آیا ہے۔ ایک دفعہ تو مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات جبکہ نہایت زور سے دعا مانگنے کے بعد الہام ہوا۔ او إِنَّ الْمَنَايَا لَا تَطِيشُ سِهَامُهَا دعاؤں کا سلسلہ جاری رہا تو الہام ہوا کہ يأَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمُ یعنی اے لوگو ! اس خدا کی پرستش کرو جس نے تم کو پیدا کیا پھر مبارک احمد کی وفات کے وقت بھی یہی الہام ہوا کہ اِنَّ الْمَنَايَا لَا تَطِيشُ سِهَامُهَا اور پھر الہام ہوا کہ يَأَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمُ یعنی اس شخص نے مرنا ضرور ہے اور عبادت کے لائق وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔ یعنی زندہ رہنے والا وہی ہے اسی سے دل لگاؤ پس ایمانداری تو یہی ہے کہ خدا سے خاص تعلق رکھا جائے اور دوسری سب چیزوں کو اس کے مقابلہ میں بیچ سمجھا جائے اور جو شخص اولا د کو یا والدین کو یا کسی لے الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۷ مورخه ۱۴ را گست ۱۹۰۸ صفحه ۲ تا ۴