ملفوظات (جلد 10) — Page 275
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۵ جلد دہم سانپ ہے اور اس کا کاٹنا گویا پیغام اجل ہے ۔ وہ اس سے خوف کرے گا اور معاً الگ ہو جاوے گا۔ دیکھو! نفس امارہ انسان کے ساتھ ساتھ لگا ہوا ہے اور خون کی طرح انسان کے عقیدہ کفارہ ہر رگ وریشہ میں اور ذرہ ذرہ میں داخل ہے۔ عیسائیوں نے تو ایک سہل اور آسان راہ نکال لی ۔ ایک شخص کو سولی پر چڑھا دیا۔ اب قیامت تک عیسائی نسل کا ہر فرد جو چاہے سو کر لے اس کو کوئی سوال ہی نہیں ہوگا۔ خون مسیح ان کے تمام گناہوں کا کفارہ ہو چکا ہے۔ نادان نہیں سمجھتے کہ زید کے تو سر درد ہے بکر نے اٹھ کر اپنے سر میں پتھر مار لیا۔ بھلا زید کو اس سے کیا فائدہ؟ میں یقیناً کہتا ہوں کہ ایک بیمار کو مرغ کی یخنی جس قدر فائدہ پہنچا سکتی ہے ان کا کفارہ اور خون مسیح اس قدر بھی مفید نہیں ہے۔ ان کے پادری جو دوسروں کو تعلیم دیتے ہیں خود ان کے اپنے حالات نہایت ہی خطرناک ہیں ۔ کفارہ کے عقیدہ نے ان کو بہت دلیر کر دیا ہے۔ گناہ ایک خطرناک زہر ہے مگر جو شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ خونِ مسیح کافی ہے اور کفارہ پر ایمان لے آنا تمام گناہوں کے واسطے کفارہ ہو جاتا ہے وہ گناہ کے زہر کوز ہر یقین کرے تو کیسے؟ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک پادری زنا کے جرم میں پکڑا گیا۔ عدالت میں جب اس سے سوال ہوا تو اس نے بڑی دلیری اور جرات سے کہا کہ کیا مسیح کا خون میرے واسطے کافی نہیں ہو چکا ہے؟ غرض ان کا کفارہ ہی تمام بدیوں کی جڑ ہے۔ ہمارے نزدیک کوشش کر کے انسان جب تک ایک پاک تبدیلی کی طرف نہیں جھکتا اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں حاصل ہو سکتا ۔ نفس امارہ کا مغلوب کرنا بہت بڑا بھاری مجاہدہ ہے۔ اسی نفس اتارہ ہی کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے انسان نہ حق اللہ کو ادا کر سکتا ہے اور نہ حق العباد سے سبکدوش ہو سکتا ہے۔ شریعت نے دوہی حصے رکھے ہیں ۔ ایک حق اللہ اور دوسرا حق العباد ۔ حق اللہ اور حق العباد حق اللہ کیا ہے ؟ یہی کہ اس کی عبادت کرنا اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرنا اور ذکر اللہ میں لگے رہنا اس کے اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کرنا، اس کے محرمات سے بچتے رہنا وغیرہ ۔