ملفوظات (جلد 10) — Page 264
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۴ جلد دہم ایسے پکے اور یقین کے ایسے سچے اور صدق و ثبات کے ایسے مخلص اور باوفا ہوتے ہیں کہ اگر ان مال و دولت کے بندوں اس دنیوی لذات کے دلدادوں کو اس لذت کا علم ہو جائے تو اس کے بدلے میں یہ سب کچھ دینے کو تیار ہو جاویں۔ ان میں سے مثال کے طور پر ایک شخص شاہزادہ مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم ہی کے حالات کو غور سے دیکھ لو کہ کیسا صدق کا پکا اور وفا کا سچا تھا۔ جان تک سے دریغ نہیں کیا۔ جان دے دی مگر حق کو نہیں چھوڑا۔ ان کی جب مخبری کی گئی اور ان کو امیر کے روبرو پیش کیا گیا تو امیر نے ان سے یہی پوچھا کہ کیا تم نے ایسے شخص کی بیعت کی ہے؟ تو اس نے چونکہ وہ ایک راستباز انسان تھا صاف کہا کہ ہاں میں نے بیعت کی ہے مگر نہ تقلیدا اندھا دھند بلکہ علی وجہ البصیرت اس کی اتباع اختیار کی ہے۔ میں نے دنیا بھر میں اس کی مانند کوئی شخص نہیں دیکھا۔ مجھے اس سے الگ ہونے سے اس کی راہ میں جان دے دینا بہتر ہے ۔“ غرض مرحوم اس بات کا ایک نمونہ چھوڑ گئے ہیں کہ ہمارے تعلق رکھنے والے کیسے صادق الایمان اور صادق الاعتقاد ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ مشکلات صرف یہی ہیں کہ لوگوں کو امور دینی میں تدبر کہ منکرین کا انجام کرنا اور خدا سے ڈر کرکسی معاملہ میں غور کرنا اورحق و باطل میں امتیاز چاہنا کیا بات ہے اس میں کو اور یہ تڑپ رکھنا کہ آیا یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے یا نہیں اس طرف توجہ ہی نہیں ۔ مگر یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فعل عبث نہیں بلکہ اس نے حق و حکمت سے سلسلہ قائم کیا ہے اور ضرورت حقہ کے وقت اس کو کھڑا کیا ہے۔ پس وہ منکروں سے ضرور مطالبہ کرے گا ما أَرْسَلَ اللَّهُ رَسُولًا إِلَّا أَخْزَى بِهِ قَوْمًا لَّا يُؤْمِنُونَ ۔ یا درکھو کہ دنیا میں ایسا کوئی بھی نبی یا رسول نہیں گذرا جس کے منکروں کو خدا تعالیٰ نے ذلت اور رسوائی کا عذاب نہ دیا ہو۔ یہ ضروری اور لازمی ہوتا ہے کہ رسول کی حجت پوری کر دینے کے بعد منکر قوم کو حق و باطل میں امتیاز پیدا کرنے کے واسطے عذاب دیا جاوے۔ خدا کے نزدیک دو بڑے ہی سخت گناہ ہیں۔ خدا تعالیٰ کے نزدیک دو بڑے گناہ اول اترا اور تقول علی اللہ یعنی یہ ہ کوئی مخص کہ