ملفوظات (جلد 10) — Page 261
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۱ جلد دہم کی ملتی ہے کیونکہ سنت اللہ یہی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعثت کے زمانہ سے پہلے ایک شخص بڑے زور سے وعظ کیا کرتا تھا کہ لوگو! نبی آخر الزمان آنے والے ہیں ۔ ان کی آمد کے تمام نشانات اور لوازم پورے ہو گئے ہیں مگر خدا کی شان کہ جب آپ مبعوث ہوئے تو اول المکد بین ہوا۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم زمانہ ہونا بھی ایک فخر اور تکبر بے جا پیدا کر دیتا ہے جو قبول ہدایت سے محرومی کا باعث ہو جاتا ہے۔ صدیق حسن نے بھی ہماری کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا اور بے ادبی کی تھی مگر بہت دن نہ گذرے کہ خدائی عتاب میں آگیا اور آخر بڑی عاجزی اور انکسار سے دعا کے واسطے لکھا۔ ہم نے اس کے واسطے دعا کی اور خدا نے ہمیں خبر دی کہ ہم نے اس کی عزت کو سر کوبی سے بچالیا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اس کے واسطے نوابی کا خطاب بحال رکھنے کا حکم آگیا مگر وہ اس حکم کے آنے سے پہلے وفات پا چکا تھا۔ لے انبیاء کا ساتھ دینے والے ہمیشہ کمزور اور ضعیف لوگ ہوتے ہیں مسٹر محمد علی جعفری ایم ۔ اے وائس پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور کو جو حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام ۔ کی خدمت میں ملاقات کے واسطے حاضر ہوئے۔ حضرت اقدس نے مخاطب کر کے فرمایا۔ میں جب مامور ہوا تھا اور خدا نے اس سلسلہ کو بہت صاف طور سے قائم کیا۔ کوئی شک و شبہ نہیں تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں اور قرآن شریف کے عین منشا کے مطابق اور ٹھیک وقت پر ظہور تھا اور پھر صداقت دعوٹی کے ساتھ خدائی نشان بھی تھے تو میں نے سب سے اول اس امر کو گروہ علماء کے پیش کیا۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ علماء اس امر کو سب سے پہلے قبول کریں گے۔ میرا خیال تھا کہ یہ لوگ بوجہ علوم دین سے واقفیت رکھنے کے بلا عذر مجھے قبول کر لیں گے کیونکہ میرا دعویٰی عین قرآن وحدیث کے مطابق اور ضرورت حقہ کے واسطے تھا اور یہ لوگ خود انتظار میں تھے الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۳ مورخہ ۱۴ رمئی ۱۹۰۸ صفحه ۱ تا ۷