ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 252

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۲ جلد دہم نہ ہی خدا کی طاقت پر پورا بھروسہ ہے۔ خودداری بھی ایک حد تک اچھی ہوتی ہے مگر جہاں ایمان جائے وہاں ایسی باتوں کا کیا خیال ۔ حالانکہ ہمارا تجربہ بتلاتا ہے کہ گورنمنٹ کو مذہب سے تعلق ہی کوئی نہیں۔ دیکھو! ہم نے عیسائیوں کے خلاف کتنی کتابیں لکھی ہیں اور کس طرح کے زور سے ان کے عقائد باطلہ کارڈ کیا ہے مگر گورنمنٹ میں یہ بڑی بھاری خوبی ہے کہ کوئی ناراضگی کا اظہار اناراضگی کا اظہار نہیں کیا گیا۔ اصل وجہ اپنی ہی کمزوری ہوتی ہے ورنہ گورنمنٹ دین کے معاملات میں کبھی بھی دست اندازی نہیں کرتی ۔ دیکھو ! ہمارے اس مقدمہ کی طرف ہی غور کر کے دیکھ لو کہ کسی دیانت داری اور انصاف سے اس کا فیصلہ کیا گیا۔ امرتسر سے چالیس ہزار روپے کی ضمانت پر وارنٹ نکالا گیا۔ مگر خدا کی قدرت وہ کتاب ہی میں پڑا رہ گیا اور بعد میں اس حاکم کو معلوم ہوا کہ وہ ایسا کرنے کا مجاز بھی نہ تھا مگر خدا کا تصرف جو ہمیشہ اپنے فرستادوں کے واسطے رنگا رنگ طرزوں میں ظاہر ہوا کرتا ہے۔ اس نے اس خطرناک وقت میں بھی ہماری نصرت کی ۔ پھر مقدمہ تبدیل ہو کر معاً گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں آگیا ۔ جس نے کوئی وارنٹ نہ نکالا اور ہمیں بلوا کر بڑے احترام اور عزت سے ہمارے ساتھ سلوک کرتا رہا۔ ہماری غرض اس امر کے اظہار سے صرف یہی ہے کہ اول تو گورنمنٹ پر مذہبی معاملات کی وجہ سے مخالف ہو یا موافق کوئی اثر نہیں ہوتا اور وہ کیا جاتا ہے جو انصاف اور دیانت کا تقاضا ہو۔ دوسرے یہ کہ خدا کا تعلق ایک ایسی چیز ہے کہ جس سے ہر مشکل کے وقت اسے تسلی اسے ملی اور ہر بلا سے نجات عطا کی جاتی ہے۔ جو خدا کا ہو جاتا ہے۔ خدا بھی پھر ہر بات میں اس کا پاس کرتا ہے۔ ایسے لوگ مومن کہلانے کے مستحق نہیں ہیں جو دنیا کے خطرات اور تفکرات میں ہی غرق ہوں اور خدا کا خانہ بالکل خالی پڑا رہے۔ مومن وہ کہلاتا ہے کہ ہلاکت کے قریب بھی پہنچ جاوے مگر خدا کو نہ چھوڑے۔ ایمان کا یہ ایک نشان ہے کہ آخر تک کل امور اسی کے ہاتھ میں یقین کرے اور نا امید نہ ہو۔ بادشاہ اور خلیفۃ المسلمین اور امیر المؤمنین کہلا کر بھی خدا کی طرف سے بے پروائی اچھی بات نہیں مخلوق سے اتناڈ رنا کہ گویا خدا کو قادر ہی نہیں سمجھنا۔ یہ ایک قسم کی سخت کمزوری ہے۔ لوگ کہتے