ملفوظات (جلد 10) — Page 250
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۰ جلد دہم ہیں۔ اگر کسی کو ایک مہلک مرض لگ جاوے تو کیسا فکر لگ جاتا ہے مگر اس روحانی جذام کی کسی کو بھی پروا نہیں جس کا انجام جہنم ہے۔ اصل میں ہمارے پاس آنا خدا کے حضور جانا ہے اور مامورین کے ساتھ دنیا کا سلوک ہماری عزت در حقیقت خدا و رسول کے کلام کی عزت ہے۔ متواتر چھبیس سال ہوئے ہیں کہ اس نے ہمیں مامور کیا ۔ مجدد بنایا اور اصلاح مفاسد زمانہ کی غرض سے دنیا میں بھیجا۔ اور پھر یہی نہیں کہ صرف ہمارا زبانی دعوی ہو بلکہ اس نے ساتھ ساتھ اپنے ہزاروں زبردست نشان بھی دیئے ۔ منہاج نبوت پر بھیجا۔ مگر لوگوں نے پروا نہ کی بلکہ الٹا کافر کہا ۔ اکفر کہا۔ دجال کہا۔ کذاب کہا۔ حالانکہ جس خدا نے مجھے بھیجا اس نے مجھے میری صداقت کے لیے نشان بھی ظاہر کیے۔ ایک نہیں، دو نہیں بلکہ ہزاروں نشان ۔ دنیوی عدالتوں میں خواہ کتنا ہی سخت سے سخت مقدمہ ہو مگر دو تین گواہ گذرنے پر سزائے موت تک بھی دی جاتی ہے مگر یہاں تو ہزاروں لوگ ہیں جو ہمارے ان نشانات کے گواہ ہیں مشرق سے مغرب تک کوئی جگہ نہیں جہاں ہمارے نشانوں کی گواہی موجود نہ ہو مگر بایں ہمہ ان لوگوں نے پروانہیں کی ۔ گورنمنٹ کا ادنی چپڑاسی وصول لگان کے واسطے آجاوے کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرتا اور اگر کرے تو گورنمنٹ کا باغی ٹھہرتا ہے اور سزا پاتا ہے مگر خدائی گورنمنٹ کی لوگ پروانہیں کرتے خدا سے آنے والے لا ریب غربت کے لباس میں ہوتے ہیں۔ لوگ ان کو حقارت اور تمسخر سے دیکھتے ہیں۔ ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ (ئیس : ۳۱) اللہ تعالیٰ سچا ہے وہ جھوٹ نہیں کہتا۔ وہ فرماتا ہے کہ آدم سے لے کر اخیر تک جتنے بھی نبی آئے ہیں ۔ ان تمام سے ہنسی ٹھٹھا کیا گیا ہے مگر جب وقت گذر جاتا ہے پھر لگتے ہیں تعریفیں کرنے ۔ شیخ عبد القادر جیلانی پر بھی قریباً دو سو علما ء وقت نے کفر کا فتوی لگایا تھا۔ ابنِ جوزی جو محدث وقت تھا اس نے ایک کتاب لکھی اور تلبیس ابلیس اس کا نام رکھا اور بہت کچھ تلخ نازیبا الفاظ ان کے حق میں استعمال کئے مگر ان کے دو نئو برس بعد ان کو کیسا کامل اور پاک باز