ملفوظات (جلد 10) — Page 233
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۳ جلد دہم جاوے ہم اس کا جواب دینے کو ہر وقت تیار ہیں ۔ ہر مدعی سے یہی ہوتا ہے کہ اس کے صدق دعویٰ کا ثبوت مانگا جاتا ہے۔ سو ہم اس امتحان کے واسطے ہر وقت تیار ہیں۔ بشرطیکہ منہاج نبوت پر ہو۔ خدا جانے ان پرانے قصوں میں کیا رکھا ہے کہ یہ لوگ تازہ بتازہ نشانات کو تو نہیں مانتے اور قصوں کے پیچھے پڑتے ہیں۔ بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ قصوں سے تمہیں حاصل ہی کیا ؟ یہودیوں کے قصے تو تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہیں تو کیا ان کو مان لو گے۔ ہر ایک قوم میں قصوں کی بھر مار ہے مگر خشک قصے تقویت ایمان اور تازگی روح کے واسطے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے ۔ قصوں والا ایمان بھی کچھ بودا ہی ہوتا ہے۔ تازہ بتازہ نشانات اور خدا کی گواہی کو جو لوگ نہیں مانتے ان کی سزا ہی آخر یہی ہے کہ وہ قصے کہانیوں کے پیرو ہوں ۔ مدعا خلفاء کیا گیا کہ یہ ان کا تھا کیا ہوتا ہے؟ مصلحین کا مدعا فرمایا۔ اصلاح د دیکھو ! حضرت آدم سے اس نسل انسانی کا سلسلہ شروع ہوا اور ایک مدت دراز کے بعد جب انسانوں کی عملی حالتیں کمزور ہو گئیں اور انسان زندگی کے اصل مدعا اور خدا کی کتاب کی اصل غایت بھول کر ہدایت کی راہ سے دور جا پڑے تو پھر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ایک مامور اور مرسل کے ذریعہ سے دنیا کو ہدایت کی اور ضلالت کے گڑھے سے نکالا ، شانِ کبریائی نے جلوہ دکھایا اور ایک شمع کی طرح نور معرفت دنیا میں دوبارہ قائم کیا گیا۔ ایمان کو نورانی اور روشنی والا ایمان بنا دیا۔ غرض اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سے یہی سنت چلی آتی ہے کہ ایک زمانہ گذرنے پر جب پہلے نبی کی تعلیم کو لوگ بھول کر راہ راست اور متاع ایمان اور نور معرفت کو لوگ کھو بیٹھتے ہیں اور دنیا میں ظلمت اور گمراہی فسق و فجور چاروں طرف سے خطرناک اندھیرا چھا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی صفات جوش مارتی ہیں اور ایک بڑے عظیم الشان انسان کے ذریعہ سے خدا کا نام اور توحید اور اخلاق فاضلہ پھر نئے سرے سے دنیا میں اس کی معرفت قائم کر کے خدا کی ہستی کے بین ثبوت ہزاروں نشانوں سے دیئے جاتے ہیں اور ایسا ہوتا ہے کہ کھویا ہوا عرفان اور گمشدہ تقوی طہارت دنیا میں قائم کی جاتی ہے