ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 231

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۱ جلد دہم طرف میری کتابوں کو لے لو جن میں یہ پیشگوئی بڑی بسط سے درج ہے پھر مقابلہ کرو کہ کون سا خدا کا کلام ہے اور کون سا شیطان کا ؟ اگر میر انطق خدا کی طرف سے اور خدا کے حکم سے نہ ہوتا تو کیا ممکن نہ تھا کہ میں ہی مر جاتا اور وہ زندہ رہتا کیونکہ ظاہر اسباب اس بات کے متقاضی تھے۔ میں اس کی نسبت عمر میں زیادہ تھا اور پھر بیماری میرے لاحق حال تھی مگر بر خلاف اس کے وہ مضبوط و توانا اور تندرست تھا۔ یہی نہیں بلکہ اس کے سوا اور بھی جس جس نے مباہلہ کیا وہی ذلیل ہوا۔ ہلاک ہوا ۔ غلام دستگیر قصوری، محی الدین لکھو کے والا ۔ ان لوگوں نے مباہلہ کئے اور خود ہی ہلاک ہو کر ہماری صداقت پر ہمیشہ کے واسطے مہریں کر گئے ۔ مولوی چراغ دین جموں والا نے میری نسبت پیشگوئی کی کہ طاعون سے مرے گا اور مباہلہ کیا ۔ مگر دیکھو خود ہی طاعون سے مرا۔ ایک فقیر مرزا تھا۔ اس نے بھی اعلان کیا تھا کہ مرزا رمضان کے مہینے میں مر جائے گا۔ مجھے عرش سے یہ خبر دی گئی ہے۔ آخر جب وہ رمضان کا مہینہ آیا تو خود ہلاک ہو گیا۔ بابو الہی بخش صاحب نے بھی ہماری نسبت اپنی کتاب میں طاعون سے مرنے کی پیشگوئی کی تھی مگر آپ لوگ جانتے ہوں گے کہ وہ کس طرح مرے۔ اب بتاؤ کہ معجزات کے سر پر سینگ ہوتے ہیں۔ ڈوئی جو سمندروں کے پار بیٹھا تھا جب وہ ہمارے مقابلہ میں آیا اور ہم نے خدا سے خبر پا کر اس کے واسطے اس کی پر حسرت ہلاکت کے واسطے پیشگوئی کی تو فوراً اس پر آثاراد بار ظاہر ہونے شروع ہو گئے اور آخر کار بڑی نامرادی سے مفلوج ہو کر اور طرح طرح کے دکھ اور ذلتیں دیکھتا ہوا ہلاک ہو گیا ۔ غرضیکہ اگر نشانات کی ایک کتاب بنائی جاوے تو یقین ہے کہ پچاس جزو کی ایک کتاب تیار ہو۔ دیکھو ! عبد اللہ آتھم بھلا اب کہاں ہے؟ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے واسطے کوئی نیا معجزہ دکھاؤ ۔ خدائی نشانات کیا باسی ہو گئے ہیں اور وہ رڈی ہو گئے ہیں کہ ان کو رڈ کر دیا جاتا ہے اور اپنی مرضی کے نشانات مانگے جاتے ہیں؟ خدا کسی کا ماتحت ہو کر نہیں چلنا چاہتا کہ وہ کسی کی مرضی کا تابع ہو۔ وہ نشان دکھا رہا ہے مگر اپنی مرضی کے موافق دکھاتا ہے۔ کیا ان سے تسلی نہیں ہوتی کہ اور مانگے جاتے ہیں؟ الغرض قرآن شریف میں آخری زمانہ کے موعود کا نام خلیفہ رکھا گیا ہے اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم