ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 184

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۴ جلد دہم اپنی قوم بھی اور دیگر عیسائی اور ہندو وغیرہ بھی سب دشمن ہو گئے مگر باوجود ان سب امور کے اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمیشہ ہمارے شاملِ حال رہی اور اس نے ایسی ایسی تائیدات کیں کہ اب اس وقت چار لاکھ یا اس سے بھی کچھ زیادہ انسان ہمارے ساتھ ہیں اور دور دراز سے آتے ہیں۔ تحفے تحائف اور نقد و جنس جن کے وعدے خدا تعالیٰ کے کلام میں کئے گئے تھے سب پورے ہوئے اور ہور ہے ہیں۔ پیشگوئیوں کو ان کے تمام لوازم پیشگوئی کے وقت اور حالت سے دیکھنا چاہیے اور پھر اس کا انجام دیکھنا چاہیے کہ کس کروفر سے پورا ہوا ۔ اگر کسی مفتری کے سوانح میں بھی اس کی نظیر ہے تو پیش کرو اور اگر ہماری اس پیشگوئی کے ماننے سے انکار ہے تو کوئی نظیر دو کہ بجز خدا کی تائید اور نصرت کے کسی مفتری نے بھی ایسا عروج پالیا ہو۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا لڑ کا عبد السلام حضرت اقدس کے نزدیک کھڑا تھا۔ حضرت اقدس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے انگریزوں کے روبرو کیا اور فرمایا کہ ان کو سمجھایا جاوے کہ اگر مثلاً یہ لڑکا آج اس حالت میں پیشگوئی کرے کہ میں ستر برس کی عمر پاؤں گا یا لاکھوں انسان دور دراز کی راہوں سے میرے دیکھنے کے واسطے آئیں گے یا کوئی اور عظیم الشان انقلاب کی خبر دے تو کیا ایسی پیشگوئیوں کی اس کی موجودہ حالت کے لحاظ سے کچھ وقعت کی جاوے گی ؟ اور پھر اگر بالفرض جو کچھ اس نے اس حالت میں کہا ہو وہ ایک وقت پورا ہو جاوے تو اس وقت اس کو کوئی جھوٹا کہہ سکے گا ؟ یا کسی کو یہ کہنے کا استحقاق ہوگا کہ یہ امر انسانی منصوبوں یا بیروں سے اسے حاصل ہوا ہے؟ حضرت اقدس کے اتنے بیان کے کے بعد انہوں نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اسے تسلیم کرتے ہیں کہ پیشگوئیاں ثبوت دعوی کی ایک دلیل ہوتی ہیں مگر ۔ سوال ۔ ہم کوئی اور دلیل بھی سننا چاہتے ہیں۔ جواب ۔ فرمایا۔ اور دلیل قبولیتِ دعا ہے۔ اس موقع پر حضرت حکیم الامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرزند صاحبزادہ عبدالحی بھی حضرت اقدس کے