ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 10

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰ جلد دہم ہے اسی کی آواز سنتا ہے (۲) دوسرے حدیث النفس ہوتا ہے جس میں انسان کی اپنی تمنا ہوتی ہے اور انسان کے اپنے خیالات اور آرزوؤں کا اس میں بہت دخل ہوتا ہے اور جیسے مثل مشہور ہے بلی کو چھیچھڑوں کی خوا ہیں، وہی باتیں دکھائی دیتی ہیں جن کا انسان اپنے دل میں پہلے ہی سے خیال رکھتا ہے اور جیسے بچے جو دن کو کتابیں پڑھتے تو رات کو بعض اوقات وہی کلمات ان کی زبان پر جاری ہو جاتے ہیں۔ یہی حال حدیث النفس کا ہے۔ (۳) تیسرے شیطانی الہام ہوتے ہیں۔ ان میں شیطان عجیب عجیب طرح کے دھو کے دیتا ہے کبھی سنہری تخت دکھاتا ہے اور کبھی عجیب و غریب نظارے دکھا کر طرح طرح کے خوش کن وعدے دیتا ہے۔ ایک دفعہ سید عبد القادر رحمتہ اللہ کو شیطان اپنے زرین تخت پر دکھائی دیا اور کہا کہ میں تیرا خدا ہوں ۔ میں نے تیری عبادت قبول کی ۔ اب تجھے عبادت کی ضرورت نہیں رہی۔ جو چیزیں اب اوروں کے لئے حرام ہیں وہ سب تیرے لیے حلال کر دی گئی ہیں۔ سید عبدالقادر رحمۃ اللہ نے جواب دیا کہ دُور ہواے شیطان ! جو چیزیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حلال نہ ہوئیں وہ مجھ پر حلال کیسے ہو گئیں ؟ پھر شیطان نے کہا کہ اے عبد القادر ! تو میرے ہاتھ سے علم کے زور سے بچ گیا ور نہ اس مقام پر کم لوگ بچتے ہیں۔ یہ سن کر سائیں صاحب بول اُٹھے کہ میں کیا ہوں اور کس مرتبے پر ہوں اور میرا کیا حال ہے؟ حضرت اقدس نے فرمایا۔ مجھے کچھ علم نہیں کہ تم کس مرتبہ پر ہو۔ تو بہ واستغفار بہت کرو۔ ملمین کے لئے نصیحت اور یہ باتیں میںصرف تمہارے لے نہیں کہا بلکہ ہرایک کے لئے کہتا ہوں۔ ہماری جماعت میں کوئی پچاس ساٹھ آدمیوں کے قریب ہوں گے جو اس قسم کے دعوے کرتے ہیں۔ دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو صاحب وحی ہونے کا دعویٰ کیا تھا تو وہ بے نشان نہیں تھا۔ کافروں نے جب ثبوت مانگا تھا کہ آپ کی وحی کے منجانب اللہ ہونے کی دلیل کیا ہے؟ تو ان کو جواب دیا گیا تھا قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمُ