ملفوظات (جلد 10) — Page 171
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۱ جلد دہم اور اقطاب دنیا میں ایسے بھی موجود ہیں کہ جن کی ایک توجہ سے انسان ولایت کے درجہ تک پہنچ سکتا ہے اور عرش تک کی اسے خبر ہو جاتی ہے۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو قرآن شریف میں تدبر کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں اس کے پانے کے واسطے صدق و اخلاص سے کوشش اور ورزش کرتے ہیں اور یہی ہیں کہ آخر جن کی پرسوز اور دردمندانہ محنتیں اور کوششیں ضائع نہیں کی جاتیں اور آخر یہ لوگ جو صبر سے خدا کے دروازے پر مانگتے ہیں اور اخلاص اور صدق سے کھٹکھٹاتے ہیں ان کے واسطے کھولا جاتا ہے اور آخر وہ اپنے صدق و اخلاص اور سچی تڑپ اور حقیقی اضطراب کی وجہ سے خدائی فیوض کے خزانوں کے مالک اور وارث بنائے جاتے ہیں۔ دیکھو! خدا بڑا بے نیاز ہے۔ اس کو اس بات کی کیا پروا ہے کہ کوئی جہنم میں جاوے یا کہ بہشت میں جاوے کسی کے دوزخ میں جانے سے خدا کا کچھ بگڑتا نہیں اور کسی کے بہشت میں جانے سے سنورتا نہیں۔ خدا کا اس میں ذاتی نفع یا نقصان کچھ بھی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنكبوت :(۳) یعنی کیا بس اتنی بات سے کہ لوگ زبان سے اتنا کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے ۔ خدا راضی ہو جاتا ہے اور حال یہ کہ ابھی ان کے اس قول کا امتحان نہیں کیا گیا کہ آیا وہ حقیقتاً مومن ہیں بھی یا کہ نہیں اور ان کے اس قول کا صدق و کذب ظاہر نہیں ہوا؟ پس سچی اور پکی بات یہی ہے کہ انسان اول صدق، اخلاص اور گدازش اختیار کر کے اپنے اوپر ہزاروں موتیں وارد کرے جب جا کر اللہ رحم کرتا ہے اور اس کی طرف جھانکتا ہے۔ جنتر منتر سے ولی بن جانے والے خیالات کے لوگ اور صرف ایک چھوہ سے آسمانی خزانوں کے مالک بن جانے کے خیالات رکھنے والے ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک آدمی ہمارے پاس آیا اور کہا کہ میں تو ایسے کامل انسان کی تلاش میں ہوں جو دم بھر میں ایک توجہ سے ولی بنا دیوے۔ ہم نے بہتیر اسمجھایا مگر جب وہ باز نہ آیا تو ہم نے کہا کہ اچھا جاؤ تلاش کرو اگر کہیں ایسا کوئی قطب غوث مل جاوے۔ آخر ایک مدت دراز کے بعد وہ ہمیں پھر مل گیا۔ بُرے حال مندے دہاڑے ۔ ہم نے پوچھا کہ کیوں تم کو ایسا پھونک مارنے والا آدمی