ملفوظات (جلد 10) — Page 8
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد دہم آپ کو مسیح اور مہدی سمجھتا ہوں اور ایسا اولوالعزم امام مانتا ہوں کہ جیسا نہ آگے کبھی ہوا اور نہ ہوگا اور ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا بھی دم بھرتے تھے۔ غرض ایک فقرہ تو ایسا بولتے تھے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ سائیں صاحب اپنے آپ کو تمام دنیا سے اعلیٰ اور زکی النفس خیال کرتے ہیں اور ساتھ ہی کل ذات اور کل فعل والے سبقوں کی عجیب عجیب تجلیات سناتے تھے لیکن پھر باتوں ہی باتوں میں اپنے آپ کو حقیر ذلیل اور کچھ کا کچھ سمجھنے لگ جاتے تھے۔ غرض بیچارے ( خدا اپنے فضل و کرم سے ان پر رحم کرے) بپیچ در پیچ مشکلات میں پھنسے ہوئے تھے اور فیج اعوج کی مقرر کردہ منزلوں کو طے کرتے کرتے عجیب و غریب اُتار چڑھاؤ میں مشغول تھے اور مصیبت پر مصیبت یہ تھی کہ اس قسم کے معاملات سے اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگ گئے تھے اور خودستائی اور کبریائی کی منازل میں بھی کافی گذر کر چکے تھے۔ اسی لئے وہاں کے احمدی احباب نے سائیں صاحب کو مخبوط الحواس اور پاگل خیال کر کے نماز کے لئے امام بنانا چھوڑ دیا اور اُن کے پیچھے نماز کا ادا کرنا نا جائز جانا۔ سائیں صاحب موصوف کی اس قسم کی سرگذشت سن کر حضرت اقدس (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اصل بات یہ ہے کہ دنیا میں مختلف طبقات کے انسان پائے جاتے سچے الہام کی شناخت ہیں مگر مسلمان تو انسان اسی صورت میں رہ سکتا ہے جب سچے دل سے کلمہ طیبہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ پر ایمان لاوے اور پورے طور سے اس پر کار بند ہو جاوے۔ اور اس کے بعد قرآن شریف پر ایمان رکھے کہ وہ خدا تعالیٰ کی سچی اور کامل کتاب ہے اور وہی ایک کلام ہے جس پر خدا کی مہر ہے۔ انسان کو اسی کے مطابق عمل درآمد کرنا چاہیے اور اسی کے بتائے ہوئے احکام پر چلنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دکھائے ہوئے نمونہ پر کار بند ہونا یہی صراط مستقیم ہے اس کے سوائے کوئی تحریر، کشف رؤیا یا الہام بغیر مہر کے جائز نہیں ۔ جب تک کسی الہام پر خدا کی مہر نہ ہو وہ ماننے کے لائق نہیں ہوتا ۔ دیکھو! قرآن شریف کو عربوں جیسے اشہ کا فر کب مان سکتے تھے اگر خدا کی مہر اس پر نہ ہوتی ہمیں بھی اگر کوئی کشف رویا یا الہام ہوتا ہے تو ہمارا دستور ہے کہ اُسے قرآن مجید پر عرض کرتے ہیں