ملفوظات (جلد 10) — Page 141
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۱ جلد دہم کیسا نو از ا۔ کیسی عظمت اور جبروت عطا کیا۔ بھلا جو کچھ خدا نے ان کو دیا اس کا وہم بھی کبھی کسی عرب کے دل میں اس وقت آ سکتا تھا ؟ ہر گز نہیں ۔ پس سچی عظمت اور سچا رعب یہی تھا نہ کہ ابو جہل وغیرہ گا۔ اور یہ باتیں انہی کو دی جاتی ہیں جو پہلے اپنے اوپر خدا کے لیے ایک موت وارد کر لیتے ہیں ۔ فرمایا کہ بات دراصل یہ ہے کہ صبر سے کام لینا چاہیے۔ استقامت اور دعا سے کام لیں ترقی ہورہی ہے۔ قبولیت دلوں میں پیدا ہوتی جاتی ہے اور دنیا کے کناروں تک اب یہ سلسلہ پہنچ چلا ہے ۔ ہمارے پاس بعض ایسے لوگوں کے بھی خط آتے ہیں جن میں سے بعض رؤسائے ریاست بھی ہوتے ہیں اور انہوں نے بیعت بھی نہیں کی ہوتی وہ لکھتے ہیں کہ ہمارے لیے فلاں امر میں دعا کی جاوے۔ اصل بات یہ ہے کہ دنیا کے دل مان گئے ہیں اور اب دیکھو متواتر چھبیس یا ستائیس برس سے ہمارا دعوٹی چلا آرہا ہے اور خدا اس میں روز ترقی دے رہا ہے۔ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اس بات کی نظیر نہیں ملتی کہ کسی مفتری علی اللہ کو اس قدر مہلت دی گئی ہو اور ایسی قبولیت اور ترقی عطا کی گئی ہو ۔ آسمانی اور زمینی نشان اس کے واسطے بطور شاہد پیدا کئے گئے ہوں ۔ آخر ان باتوں کا بھی تو دلوں پر اثر ہوتا ہے۔ گھبرانا نہیں چاہیے۔ صبر، استقامت اور دعا سے کام لینا چاہیے۔ سیر سے واپسی پر ایک کسان منگو نام سکنہ بھینی نے سامنے سے آ کر حضور کی ذرہ نوازی سلام مسنون اور مصافحہ کرنے کے بعد رض کی کہ حضورتھوڑی دیر ظہر جاویں میں کچھ گنے نذر کرنا چاہتا ہوں۔ حضور نے فرمایا۔ کچھ ضرورت نہیں تمہیں تو اب ہو گیا ۔ اب تکلیف مت کرو مگر اس نے نہ مانا اور اصرار کیا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ اچھا میاں شادی خاں کو دے دو۔ وہ ہمارے واسطے لے آوے گا۔ مگر اس شخص نے نہایت ہی الحاج سے عرض کی نہیں حضور ! یہاں ٹھہر ہی جاویں اور حضور کے