ملفوظات (جلد 10) — Page 137
ملفوظات حضرت مسیح موعود کے کرنے کا ہما را دعوئی ہے۔ ا ۱۳۷ جلد دہم مجدد صاحب لکھتے ہیں کہ یہی خواہیں اور الہامات جو گاہ گاہ انسان کو ہوتے ہیں اگر کثرت سے کسی کو ہوں تو وہ محدث کہلاتا ہے۔ غرض یہ سب کچھ ہم نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں مفصل لکھ دیا ہے۔ اس کا مطالعہ کر کے تسلی کر لیں ۔ ۱۷ مارچ ۱۹۰۸ء ( بوقت سیر ) کسی آریہ کے اس اعتراض پر کہ نعوذ باللہ آنحضرت کو خود اپنی وحی اور تحویل قبلہ کی حقیقت الہامات پر یقین اور فوق نہ تھاہی واسط تحویل قبلہ ہوئی۔ فرمایا کہ یہ نادان لوگ نہیں جانتے کہ تحویلِ قبلہ اور یہ انقلاب اللہ تعالیٰ نے اس واسطے کرائے کہ تا یہ ظاہر ہو جاوے کہ مسلمان کعبہ پرست نہیں ہیں۔ ہر دو متبرک مقامات جن کی بزرگی اور عزت کی وجہ سے کبھی کسی زمانے میں کسی کو ان کی پرستش کا خیال ہو سکتا تھا ان کو پیٹھ کے پیچھے کرا کے اس امر کا اظہار عام طور پر کرا دیا کہ مسلمان واقعی اور حقیقی طور سے خدا پرست ہیں نہ کہ کعبہ پرست ۔ بایں ہمہ یہ لوگ مسلمانوں پر حجر اسود کی پرستش کا الزام دیتے ہی جاتے ہیں ۔ صاف بات ہے کہ عبادت کے لئے انسان کو کسی نہ کسی طرف تو منہ کرنا ہی پڑتا ہے ۔ پس ایک شخص تو خودا پنی خواہش سے کسی طرف کو پسند کرتا ہے اور دوسرا حکم الہی سے ایک خاص طرف منہ کرتا ہے۔ بھلا بتاؤ تو سہی ان میں سے کون اچھا ہے ایک تو حکم پرست ہے اور دوسرا نفس پرست ۔ بایں ہمہ یہ لوگ مسلمانوں کو کعبہ پرست کہتے ہوئے شرماتے کیوں نہیں؟ پس آنحضرت کا تحویل قبلہ کرنا اسی حقیقت پر مبنی تھا کہ مسلمان خاص موحد اور توحید کے پابند ہو جاویں۔ کعبہ پرستی کا وہم تک بھی ان کے دل سے نکل جاوے نہ کسی متلون اور یقین کی کمی کی وجہ ۔ سے جیسا کہ نادان آریوں کا وہم ہے کیونکہ آپ تو صاف کہتے ہیں قُلْ هَذِهِ سَبِيلِی اَدْعُوا إِلَى اللَّهِ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۸ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۵،۴