ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 131

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۱ جلد دہم اس کے جواب میں حضرت نے فرمایا کہ زندگی کا بیمہ جس طرح رائج ہے اور سنا جاتا ہے اس کے جواز کی ہم کوئی صورت بظاہر نہیں دیکھتے کیونکہ یہ ایک قمار بازی ہے۔ اگر چہ وہ بہت سا روپیہ خرچ کر چکے ہیں۔ لیکن اگر وہ جاری رکھیں گے تو یہ روپیہ اُن سے اور بھی زیادہ گناہ کرائے گا۔ اُن کو چاہیے کہ آئندہ زندگی گناہ سے بچنے کے واسطے اس کو ترک کر دیویں اور جتنا رو پید اب مل سکتا ہے وہ واپس لے لیں ۔ ایک صاحب نے حضرت کی خدمت میں لکھا کہ میرے واسطے آپ ایسی دعا کریں جو قبولیت دعا ضرور قبول ہو اور اس اور اُس معاملہ میں ہو۔ حضرت نے فرمایا۔ اس کو جواب لکھ دیں کہ خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہیں کہ ہر ایک دعا قبول کرے۔ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ایسا کہیں نہیں ہوا۔ ہاں مقبولوں کی دعا ئیں بہ نسبت دوسروں کے بہت قبول ہوتی ہیں۔ خدا کے معاملہ میں کسی کا زور نہیں ۔ ۱۶ مارچ ۱۹۰۸ء ( قبل نماز عصر ) مولوی محمد حسین صاحب نے حضرت اقدس کی مولوی محمد حسین بٹالوی کا ظاہر و باطن خدمت میں بذریعہ ایک دو خطوں کے اور زبانی بھی کسی مقدمہ میں منصف بننے کے واسطے لکھا اور کہلا بھیجا تھا اور ساتھ ہی دھمکیاں بھی دی تھیں کہ اگر آپ اس معاملہ میں منصف نہ بنیں گے تو میں عدالت میں آپ کو گواہ لکھوا دوں گا اور اس طرح سے آپ کو عدالت میں حاضر ہونا پڑے گا۔ حضرت اقدس نے فرمایا۔ تعجب آتا ہے کہ ایک طرف تو ہمیں کافرو دجال ، بیدین اور مرتد ٹھہراتا ہے اور پھر یہی نہیں کہ ے بدر جلد نمبر ۱۴ مورخه ۹ را پریل ۱۹۰۸ ء صفحه ۳