ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 127

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۷ جلد دہم اور در پئے آزار ہے اور عام طور سے لوگ بھی مجمعوں میں کم آتے ہیں ۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ آپ صبر سے کام لیں اور استقلال رکھیں ۔ آپ دیکھ لیں گے کہ پہلے سے بھی زیادہ لوگ آپ کے مجمعوں میں جمع ہوں گے اور سارے مشکلات دور ہو جاویں گے۔ ایسی مشکلات کا آنا از بس ضروری ہوتا ہے۔ دیکھو امتحان کے بغیر کسی کی کچھ قدر نہیں ہوتی ۔ دنیا ہی میں دیکھ لو کہ پاسوں کی کیسی پوچھ ہوتی ہے کہ کیا پاس کیا ہے؟ پس جو لوگ خدائی امتحان میں پاس ہو جاتے ہیں پھر اُن کے واسطے ہر طرح کے آرام و آسائش، رحمت اور فضل کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ۔ دیکھو! قرآن شریف میں صاف فرمایا ہے کہ اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنكبوت : (۳) صرف زبان سے کہہ لینا تو آسان ہے مگر کچھ کر کے دکھانا اور خدائی امتحان میں پاس ہونا بڑی بات ہے۔ دیکھو! ہماری ہی ابتدائی حالت پر غور کرو کہ اول اول ہمارے ساتھ ایک آدمی بھی نہ تھا۔ مولوی محمد حسین نے ہمارے واسطے کفر کا فتوی تیار کیا اور پشاور سے لے کر بنارس تک تمام ہندوستان کے بڑے بڑے مولویوں کی دو تین صد مہریں لگوالیں اور فتویٰ دے دیا کہ ان کا قتل کرنا ، ان کا مال لوٹ لینا، ان کی عورتیں چھین لینا سب جائز ہے اور یہ لوگ کافر ، اکفر، ضال، مُضِل اور یہود نصاری سے بھی بدتر ہیں ۔ مگر دیکھ لو کہ اس کی کیا پیش گئی ۔ خدا نے اس کو کیسا ذلیل کیا۔ پس سچے مومن بننا چاہیے۔ دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات پر ذرا نظر ڈالو۔ آپ کے زمانے میں کیسے مشکلات کا سامنا تھا۔ مگر آپ کے اور آپ کے صحابہؓ کے وفا ، صدق ، صبر اور استقامت نے کیا کچھ کر دکھا یا یقیناً جانو کہ اگر کروڑ توپ بھی ہوتی جب بھی یہ کام جو ان لوگوں کے ایمان، صدق ، صبر اور استقلال نے کر دکھا یا ہرگز ہرگز نہ کر سکتی ۔ دیکھو! آپ کے پاس نہ کوئی فوج تھی نہ تو ہیں تھیں نہ سپاہی تھے مگر اللہ تعالیٰ نے کیسی تائید کی کہ بڑے بڑے لوگ خس و خاشاک کی طرح فتح ہوتے چلے گئے ۔