ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 113

ملفوظات حضرت مسیح موعود ا الله جلد دہم یہ امام حسین کے فضائل بے شک بیان کریں ہم منع نہیں کرتے اور جس حد تک انبیاء کرام کی تکذیب لازم نہ آئے اور راست بازوں کی ہتک نہ ہو ہم ماننے کو تیار ہیں مگر یہ تو نہیں کہ انہیں خدا بنا لیں ۔ اگر واقعی ان کو امام حسین سے محبت ہے تو ان کی پیروی کریں۔ جس سے انسان کو محبت ہو وہ اس کے رنگ سے رنگین ہے بن ہونا چاہتا ہے اور اُس (کے) سے کام کرنا اپنادین وایمان سمجھتا ہے۔ اتنے پیغمبر گزرے ہیں کیا کبھی کسی نے کہا ہے کہ میری بندگی کرو؟ اصل بات تو یہ ہے کہ دُور دُور سے گمراہوں کا جو اسلام میں ہو کر اس درجہ تک پہنچے ہدایت پانا نسبتا مشکل ہے۔ امام حسین کو میں نے دو مرتبہ دیکھا ہے۔ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ دور سے ایک شخص چلا آ رہا ہے اور میری زبان سے یہ لفظ نکلا۔ ابو عبداللہ حسین ۔ پھر دوبارہ دیکھا۔ آداب مجلس ہمارا مذہب تو یہ ہے اور یہی مومن کا طریق ہونا چاہیے کہ بات کرے تو پوری ے ورنہ چپ رہے۔ جب دیکھو کہ کسی مجلس میں اللہ اور اس کے رسول پر ہنسی ٹھٹھا ہو رہا ہے تو یا تو وہاں سے چلے جاؤ تا کہ ان میں سے نہ گنے جاؤ اور یا پھر پورا پورا کھول کر جواب دو۔ دو باتیں ہیں یا اعتراض یا چپ رہنا۔ یہ تیسرا طریق نفاق ہے کہ مجلس میں بیٹھے رہنا اور ہاں میں ہاں ملائے جانا۔ دبی زبان سے اخفا کے ساتھ اپنے عقیدہ کا اظہار کرنا۔ ۲۵ فروری ۱۹۰۸ء ( قبل نماز عصر ) ایک شخص نے سوال والدین کی فرمانبرداری با لیکن خدا تعالیٰ کا حق مقدم ہے کیا کہ یا حضرت والدین کی خدمت اور ان کی فرمانبرداری اللہ نے انسان پر فرض کی ہے مگر میرے والدین حضور کے سلسلہ بیعت میں داخل ہونے کی وجہ سے مجھ سے سخت بیزار ہیں اور میری شکل تک دیکھنا پسند نہیں کرتے ۔ چنانچہ جب میں حضور کی بیعت کے واسطے آنے کو تھا تو انہوں نے مجھے کہا کہ ہم سے خط و کتابت بدر جلدے نمبر ۱۰ مورخه ۱۲ مارچ ۱۹۰۸ ء صفحه ۴