ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 111

ملفوظات حضرت مسیح موعود 111 جلد دہم بھی آجاتے ہیں۔ مکالمہ مخاطبہ الہیہ ہونا چاہیے اور وہ بھی ایسا کہ جس میں پیشگوئیاں ہوں اور بلحاظ کمیت و کیفیت کے بڑھ چڑھ کر ہو۔ ایک مصرعہ سے تو شاعر نہیں ہو سکتے ۔ اسی طرح معمولی ایک دو خوابوں یا الہاموں سے کوئی مدعی رسالت ہو تو وہ جھوٹا ہے۔ ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں اسی لیے ہم نبی ہیں۔ امرحق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفا نہ رکھنا چاہیے۔ فرمایا۔ آر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی آنحضرت صلی الہ علیہ سلم کی زندگی پوتر ت نہیں تھی ۔ تھی ۔ یہ ان لوگوں کی سخت غلطی ہے کیونکہ پاک نا پاک ہونا بہت کچھ دل سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا حال سوائے اللہ کے اور کسی کو معلوم نہیں ۔ پس پاک وہ ہے جس کے پاک ہونے پر خدا گواہی دے۔ دیکھو ابو جہل نے مباہلہ کیا تھا کہ جو ہم میں افسدُ لِلْقَوْمِ اور أَقْطَعُ لِلرَّحْمِ ہے اسے ہلاک کر ۔ وہ اسی روز ہلاک ہو گیا۔ ایسا ہی خسرو پرویز ۔ وہ تو خدا کی بات ہے۔ خود اس کے گھر میں ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک غلام سے مباہلہ کیا۔ مدت مقررہ کے اندر مر کر گواہی دے گیا۔ فتہ پھر ای آریہ نے لکھا ہے کہ الہامی کتاب وہ ہے جس سے اللہ کے اعلیٰ درجہ کے اخلاق ظاہر ہوں ۔ اسلام کی فتح فرمایا۔ یہ سچ ہےاور اس میں بھی اسلام کی فتح ہے۔ یہ آریہ اللہ کے حیم وغفور ہی ت ہونے کے قائل نہیں حالانکہ ان میں سے کوئی مقدمہ میں پھنس جائے تو یہ دل سے چاہتا ہے کہ خواہ میں نے قصور کیا مجھے حاکم بخش دے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی فطرت چاہتی ہے کہ اس کا حاکم غفور رحیم ہے پھر باوجود اس کے اللہ کی اسی صفت سے انکار ایک ہٹ دھرمی ہے۔ بدر جلدے نمبر ۹ مورخه ۱۵ مارچ ۱۹۰۸ ء صفحه ۲ و الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۷ مورخه ۶ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۵ /