ملفوظات (جلد 10) — Page 108
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۰۱ جلد دہم کہتے ہیں ۔ اس کے یہ معنے ہیں کہ جو پرا گندہ دل ہو وہ پرا گندہ روزی رہتا ہے۔ اور اول تو صادقوں کے سوانح دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے خود اپنے تئیں پراگندہ روزی بنالیا۔ دیکھو! حضرت ابوبکر تاجر تھے بڑے معزز ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر سب کو دشمن بنالیا۔ کاروبار میں بھی فرق آگیا یہاں تک کہ اپنے شہر سے بھی نکلے۔ یہ بات خوب یا د رکھو کہ سچی تقویٰ ایسی چیز ہے جس سے تمام مشکلات حل ہو جاتی ہیں اور گل پراگندگیوں سے نجات ملتی ہے۔ جھوٹے ہیں وہ لوگ جو خدا تعالیٰ پر تہمتیں دیتے ہیں ۔ تمام انبیاء وراستبازوں کی گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ رحیم و کریم کوئی نہیں ۔ انسان جو حد سے زیادہ تنگ ہو جاتا ہے تو یہ اس کی اپنی ہی غلطی کا نتیجہ ہے۔ تو گل میں کمی ہوتی ہے صدق قدم نہیں ہوتا ۔ صحیح طور سے مومن معلوم کرنا مشکل ہے انسان کہہ سکتا ہے میں صالح ہوں ، زاہد ہوں مگر خدا کے نزدیک وہ بدکار ہوتا ہے ۔ایسے ہی بعض ایسے بندے بھی ہیں جو لوگوں میں بڑے سمجھے جاتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی صالح ہیں۔ دیکھو ! ابو جہل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت برا سمجھا مگر اللہ کے نزدیک آپ سرور کائنات تھے ۔ ابو جہل کو آپ کے بُرے ہونے پر یقین تھا کہ اُس نے مباہلہ تک کر لیا اور کہا۔ اللَّهُمَّ مَنْ كَانَ أَفْسَدُ لِلْقَوْمِ وَأَقْطَعُ لِلرَّحْمِ فَاهْلِكُهُ الْيَوْمَ - معلوم ہوتا ہے اسے پکا یقین تھا جبھی تو یہ کلمات کہے مگر اس کا نتیجہ کیا ہوا ؟ کہ خدا تعالیٰ نے فعلی رنگ میں ظاہر کر دیا کہ صادق اور پاکباز کون ہے اور کا ذب اور بد کار کون؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کو كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحُبِ السَّعِيرِ ( الملك : 11) علم صیح اور عقل سلیم یہ بھی خوش قسمتی کی نشانیاں ہیں۔ جس میں شقاوت ہو اس کی مت ماری جاتی ہے وہ نیک کو بد اور بد کو نیک سمجھتا ہے۔ ے بدر جلدے نمبرے مورخہ ۲۰ فروری ۱۹۰۸ ء صفحه ۳، ۴