ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 106

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۶ جلد دہم کیا ارادے ہیں اور کل کیا ہونے والا ہے؟ پس پہلے سے دعا کرو تا بچائے جاؤ۔ بعض وقت بلا اس طور پر آتی ہے کہ انسان دعا کی مہلت ہی نہیں پاتا۔ پس پہلے اگر دعا کر رکھی ہو تو اُس آڑے وقت میں کام آتی ہے۔ جب لوگ حد سے زیادہ دنیا میں دل لگاتے ہیں۔ خدا سے بے پروائی اختیار عذاب کا فلسفہ کرتے ہیں تو انہیں متنبہ کرنے کے لئے عذاب نازل ہوتا ہے۔ دیا ہوتا ہے۔ دیکھو طاعون کیسی تباہی ڈال رہی ہے۔ ایک کو دفن کر کے آتے ہیں تو دوسرا جنازہ تیار ہوتا ہے۔ دو 66 یا درکھو کہ بت پرستی، انسان پرستی مخلوق پرستی کی سزا آخرت میں ہے۔ مگر شوخیوں بدمعاشیوں، ظلم و تعدی ، غفلت اور اہل حق کو ستانے و دکھ دینے کی سزا اسی دنیا میں دی جاتی ہے۔ نوح کے وقت جو عذاب آیا اگر خدا کے رسول کو نہ ستاتے تو وہ عذاب نہ آتا۔ یہ شوخی پر اس لیے عذاب آتا ہے کہ ایک چور دوسرا چتر دنیا دار المکافات نہیں ۔ اس میں دست بدست سزا صرف اُسے ملتی ہے جو بدمعاشی کرے۔ جو شرافت کے ساتھ گناہ میں گرفتار ہو تو اس کی سزا آخرت میں ہے اور اب جو دنیا میں عذاب آیا تو اسی لیے کہ دلیری ، شوخی ، شرارت حد سے بڑھ گئی ایسی کہ گویا خدا ہے ہی نہیں ۔ طاعون نے اس قدر سخت بربادی کی مگر ابھی اُن کے دلوں نے کچھ محسوس نہیں کیا۔ پوچھو تو ہنسی ٹھٹھے میں گزار دیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں معمولی بیماری ہے گویا خدا کے قضاء وقدر سے منکر ہیں ۔ بے شک یہ بیماری ہے مگر انہی بیماریوں سے عذاب آیا کرتا ہے۔ یہودیوں پر جب یہ وبا پڑی تو خدا نے اسے عذاب فرمایا۔ یا د رکھو کہ جب خدا چاہتا ہے انہیں بیماریوں کو شدت وکثرت میں بڑھا کر ہلاک کر دیتا ہے ۔ ان لوگوں کی بے یقینی کی یہ علامت ہے کہ عذاب کو عذاب نہیں سمجھتے ۔ خدا رحیم ہے۔ سزا دینے میں دھیما ہے مگر یہ لوگ یاد رکھیں کہ جب تک وہ وقت نہ آئے گا کہ پکار اُٹھیں اب ہم سمجھے یہ عذاب ہٹنے کا نہیں۔ اس کا علاج وہی ہے جو ہم بار ہا دفعہ بتا چکے ہیں ۔ یعنی تضرع وانابت إلى الله - لو ا بدر جلدے نمبرے مورخہ ۲۰ فروری ۱۹۰۸ ء صفحه ۳