ملفوظات (جلد 10) — Page 104
ملفوظات حضرت مسیح موعود ا ولد جلد دہم باتیں سن بھی نہیں سکتے ۔ انہیں کسی موقع پر کسی پیرائے میں نہایت نرمی سے نصیحت کر جانا چاہیے۔ بلا تاریخ عقیقہ کی نسبت سوال ہوا کہ کس دن کرنا چاہیے؟ عقیقہ کس دن کرنا چاہیے فرمایا۔ ساتویں دن۔ اگر نہ ہو سکے تو پھر جب خدا توفیق دے۔ ایک روایت میں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا عقیقہ چالیس سال کی عمر میں کیا تھا۔ ایسی روایات کو نیک ظن سے دیکھنا چاہیے۔ جب تک قرآن مجید و احادیث صحیحہ کے خلاف نہ ہوں۔ پیل پایوں کے بیچ میں کھڑے ہونے کا ذکر آیا کہ بعض احباب مسجد کے ستونوں کے درمیان نماز ایسا کرتے ہیں ۔ فرمایا۔ اضطراری حالت میں تو سب جائز ہے۔ ایسی باتوں کا چنداں خیال نہیں کرنا چاہیے اصل بات تو یہ ہے کہ خدا کی رضامندی کے موافق خلوص دل کے ساتھ اس کی عبادت کی جائے ان باتوں کی طرف کوئی خیال نہیں کرتا ۔ ہے ۲۶ جنوری ۱۹۰۸ء ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور نے اپنی تقریر جلسہ ماہ دسمبر میں فرمایا قرب قیامت قیامت سے مراد تھا کہ قیامت آنے والی ہے اور اس کا وقت قریب ہے۔ کیا اس سے یہ مراد ہے کہ کچھ سالوں کی بات ہے؟ فرمایا کہ قرآن میں بھی ہے اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ ( القمر : (۲) اور ایسی دیگر آیات پس سمجھ سکتے ہو کہ قریب کے کیا معنے ہیں؟ قرب الساعۃ کے جو نشانات تھے وہ تو ظاہر ہو چکے جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ بدر جلدے نمبر ۶ مورخه ۱۳ رفروری ۱۹۰۸ ء صفحه ۴، ۵ ۲ بدر جلدی نمبر ۶ مورخه ۱۳ رفروری ۱۹۰۸ ء صفحه ۱۰