ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 100 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 100

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰ جلد دہم تو اس میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کی توحید دنیا سے گم ہو۔ جب مسلمان ہی کفر و شرک کو پسند کرنے لگیں تو پھر دوسری قوموں کا کیا گلہ ہو سکتا ہے؟ پہلے گھر صاف ہو تو پھر دوسرے لوگوں کی اصلاح ہو سکتی ہے تمام قوموں میں دہریت بڑھتی جاتی ہے۔ خدا تعالیٰ اپنی ہستی ثابت کرنا چاہتا ہے اور اول خویشاں بعد درویشاں کے مطابق ہمارا فرض ہے کہ پہلے اپنی قوم کی اصلاح کریں ۔ جب مسلمانوں ہی میں ہزاروں گند ہوں تو دوسروں کو کیا کہا جاسکتا ہے۔ جہاد جہاد پکارتے ہیں ۔ مگر میں کہتا ہوں کہ اگر ہمیں جہاد کرنے کا حکم ہوتا تو سب سے پہلے انہیں سے کیا جانا چاہیے تھا۔ یہ عادت اللہ ہے کہ جس قوم کے اندر کتاب ہو پہلے اسے درست کیا جاتا ہے پھر دوسری وموں کی طرف توجہ ہوتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ موجود ہے۔ سب سے پہلے قریش کی اصلاح کی پھر یہود و نصاری کی طرف متوجہ ہوئے ۔ مسلمانوں میں دو قسم کے لوگ ہیں ۔ ایک جو پورا کلمہ بھی پڑھنا نہیں مسلمانوں کے دو گروہ جانتے جن میں سے وہ بھی ہیں جن کی نسبت آر یہ مشہور کرتے رہتے ہیں کہ ہم نے اتنے مسلمانوں کو آریہ کر لیا۔ پہاڑ میں ایسے آدمی ہم نے بہت دیکھے جن کو اسلام کی کچھ خبر ہی نہیں۔ دوسرے وہ جو مہذب تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں۔ یہ اسلام کو کراہت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ نماز کے ارکان پر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ نماز روزہ وحشیانہ زمانے کی باتیں ہیں۔ یہ احکام آجکل کے زمانہ میں مناسب نہیں۔ پس ان دونوں گروہوں کی اصلاح سب سے اوّل ضروری ہے مگر ہم کیا اصلاح کر سکتے ہیں جب تک آسمان ہی سے نہ ہو جس کے کان سننے کے ہوں اسے ہم بخوشی سناتے ہیں ۔ بعض ایسے ہیں کہ بیان کرو وہ سنیں گے ہی نہیں یا بات کو دوسری طرف لے جائیں گے۔ بے دینی کی ایک زہرناک ہوا چل رہی ہے جس نے کسی کو ہلاک کر دیا کسی کو اندھا، کسی کوشست ۔ وہ جو خدا سے تعلق پیدا کرنے والے ہیں بہت تھوڑے رہ گئے ہیں۔ خدا کی ہستی ثابت کرنے کی بڑی ضرورت ہے۔ فرقے تو بہت ہو گئے تھے مگر دہر یہ سب سے زیادہ ہیں عظمتِ الہی مطلق نہیں رہی ۔ عظمت کیا ہو جب کہ خدا کے وجود پر ہی پورا یقین نہیں رہا۔