ملفوظات (جلد 10) — Page 94
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۴ جلد دہم کے ساتھ شائع کئے گئے ہوں اور پھر پورے ہوں۔ یوں تو ہر ایک مفتری کہہ سکتا ہے کہ میں نے ایسا خواب دیکھا جو پورا ہو گیا۔ لے ۱۹ جنوری ۱۹۰۸ء اگر ہم ہی المسیح الدجال ہیں اور یہ بات کسی صحیح واقعہ پر بنی ہے تو پھر سچ سچ کہاں ہے؟ احادیث میں تو اس کے ساتھ ہی سیح موعود کا ذکر بھی ہے۔ پس بتائیں کہ وہ سچا مسیح کہاں ہے اور کب آسمان سے اُتر ا ؟ کے بلا تاریخ ایک شخص نے عرض کیا مجھ پر بڑا قرض ہے ۔ دعا کیجئے ۔ قرض کا علاج فرمایا۔ تو بہ واستغفار کرتے رہو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو استغفار کرتا ہے اُسے رزق میں کشائش دیتا ہے۔ پھر اتنا قرض کس چڑھ سودی لین دین پھر پوچھا کہ اتنا فرض کس طرح چڑھ گیا؟ لین دین اس نے کہا۔ بہت سا حصہ سودی ہے ۔ سا حصہ ہے۔ فرمایا۔ بس پھر تو شامت اعمال ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کو توڑتا ہے اسے سزا ملتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے پہلے فرمادیا کہ اگر سود کے لین دین سے باز نہ آؤ گے تو لڑائی کا اعلان ہے۔ خدا کی لڑائی یہی ہے کہ ایسے لوگوں پر عذاب بھیج دیتا ہے۔ پس یہ مفلسی بطور عذاب اور اپنے کئے کا پھل ہے۔ اس شخص نے کہا۔ کیا کریں مجبوری سے سودی قرضہ لیا سودی لین دین سے بچنے کا طریق جاتا ہے۔ فرمایا۔ جو خدا تعالیٰ پر توکل کرتا ہے خدا اس کا کوئی سبب پردہ غیب سے بنا دیتا ہے۔ افسوس کہ ۱ ، ۲ بدر جلدے نمبر ۴ مورخه ۳۰ جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۳